.

عراقی سنی ہتھیار نہ پھینکیں ورنہ غلام بننا ہو گا: القاعدہ

آئی ایس آئی ایل کا صوبہ انبار کے سنیوں کیلیے آڈیو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے وابستہ گروپ آئی ایس آئیِ ایل نے صوبہ انبار کے سنی عوام سے اپیل کی ہے کہ سرکاری افواج کے سامنے ہتھیار ہر گز نہ پھینکیں کیونکہ اب تصادم یا غلامی میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس امر کا ظہار ایک آڈیو پیغام میں کیا گیا ہے۔

آئی ایس آئی ایل کے ترجمان ابو محمد العدنانی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ ''سنی عوام کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا گیا ہے، اس لیے اب ہتھیار پھیکنے کا وقت نہیں ہے اگر اب ہتھیار چھوڑ دیے گئے تو پھر سنی کبھی نہیں اٹھ سکیں گے۔"

القاعدہ گروپ کی طرف سے یہ پیغام ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب فلوجہ اور رمادی میں القاعدہ نے اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے جبکہ عراقی فورسز القاعدہ کا کنٹرول ختم کرانے کیلیے بھر پور تیاری کر رہی ہیں تاکہ ایک بڑے آپریشن کے ذریعے علاقے خالی کرائے جا سکیں۔

صوبہ انبار کے پولیس چیف جنرل اسماعیل المحلوی نے ''العربیہ'' کو بتا یا ہے کہ ''پولیس کی چھٹیاں ختم کر دی گئی ہیں اور انہیں ڈیوٹی پر واپس بلا لیا گیا ہے تاکہ فلوجہ اور رمادی میں بڑے آپریشن کے ذریعے دوبارہ سرکاری کنٹرول بحال کیا جا سکے۔''

پولیس کے سربراہ نے مزید کہا '' صوبے سے عسکریت پسندوں کو بے دخل کرنے کیلیے اس آپریشن کے دوران جدید ترین ہتھیار بروئے کار لائے جائیں گے۔'' واضح رہے امریکا نے حال ہی میں عراقی ائیر فورس کو جدید ترین ہیل فائر میزائل اور جاسوس ڈرون طیاروں کی ابتدائی کھیپ دی ہے تاکہ القاعدہ کو نشانہ بنایا جاسکے جبکہ امریکی اسلحے کی مزید کھیپ بھی پہنچنے والی ہے۔

تاہم یہ حقیقت ہے کہ عراقی فورسز ابھی تک صوبہ انبار میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے اور قبضہ واپس لینے میں عسکریت پسندوں کے مقابل ناکام نظر آتی ہیں۔

خیال رہے کہ صوبہ انبار میں حالیہ لڑائی 28 دسمبر کو سنی اراکین پارلیمنٹ کی گرفتاری اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے ان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جانے کے بعد شروع ہوئی اور دن بعد سکیورٹی فورسز نے طویل عرصے سے جاری سنی احتجاجی کیمپ کو اکھاڑ پھینکا تھا۔