.

القاعدہ سے وابستہ گروپ کی شامی باغیوں کو سبق سکھانے کی دھمکی

شام میں القاعدہ سے تعلق کے دعوے دار دو بڑے مزاحمتی گروپ باہم برسرپیکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرجنگ القاعدہ سے وابستہ گروپ اور باغی جنگجو اب آپس میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہوگئے ہیں اور القاعدہ سے وابستہ گروپ ریاست اسلامی عراق وشام کے ترجمان نے اپنے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ دوسرے باغی گروپوں کو ''تہس نہس'' کردیں۔

القاعدہ کے اس گروپ کے ترجمان ابو محمد العدنانی کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ کے ذریعے منظرعام پر آئی ہے اور اس میں انھوں نے آئی ایس آئی ایل کے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ ''وہ انھیں (باغیوں کو) مکمل طور پر ختم کردیں اور سازش کو اس کی پیدائش پر ہی قتل کردیں''۔

ترجمان نے القاعدہ کے اس گروپ کے مخالف جنگجوؤں کو خبردار کیا ہے کہ ''آپ میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا اور ہم آپ کو آپ ایسوں کی راہ پر چلنے کا سوچنے والوں کے لیے باعث عبرت بنا دیں گے''۔

دولت (ریاست) اسلامی عراق وشام (داعش) کی جانب سے یہ دھمکی القاعدہ کے ایک اور گروپ النصرۃ محاذ کے سربراہ کے ایک بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ محاذ بھی شام کے دوسرے باغی گروپوں کی داعش یا آئی ایس آئی ایل کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے جارہا ہے۔

النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ان کے گروپ اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان منگل کو بڑے پیمانے کی لڑائی چھڑ گئی ہے۔انھوں نے داعش کی غلطیوں کو اس لڑائی کا سبب قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے الرقہ میں النصرۃ کے کمانڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔

جولانی نے اپنے پیغام میں تمام باغی گروپوں سے کہا ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح جدوجہد میں متحد ہوجائیں۔انھوں نے اس ''بدقسمت صورت حال میں آزاد قیادت کے حامل تمام تسلیم شدہ دھڑوں کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ تمام باغی گروپوں کے درمیان باہمی لڑائی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور قیدیوں کا تبادلہ کیاجائے۔ان کا کہنا تھا کہ باغیوں کو صدر بشارالاسد کی فورسز کے خلاف لڑائی پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف لڑائی بند کردیں۔

القاعدہ میں تقسیم

شام میں القاعدہ کے دھڑوں میں تقسیم نومبر 2013ء میں عالمی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ایک فیصلے کے بعد رونما ہوئی تھی۔انھوں نے شام میں النصرۃ محاذ کو القاعدہ کا پرچم استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور ریاست اسلامی عراق وشام کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔

اس سے پہلے جون میں انھوں نے اس ضمن میں ایک تحریری فرمان جاری کیا تھا لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ڈاکٹر ظواہری نے کہا کہ صرف النصرۃ محاذ شام میں ان کے جہادی گروپ کی شاخ ہے اور جنرل کمان کو رپورٹ کرنے کا پابند ہے۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کو ختم کردیا جائے۔وہ جہادی بینر استعمال نہ کرے اور صرف ریاست اسلامی عراق کو برقرار رکھا جائے۔

اپریل 2013ء میں ان دونوں تنظیموں کے درمیان تنازعہ اس وقت پیدا ہوگیا تھا جب داعش کے لیڈر ابو بکر البغدادی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ النصرۃ محاذ اب شام میں ان کی شاخ ہے لیکن اس کو النصرۃ کے کمانڈر جولانی نے مسترد کردیا تھا اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ساتھ اپنی وابستگی اور وفاداری کا اظہار کیا تھا۔

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف مزاحمتی جنگ لڑنے کے لیے النصرۃ محاذ جون 2012ء میں تشکیل دیا گیا تھا۔اس نے اسی سال دسمبر میں القاعدہ میں شمولیت اختیار کی تھی اور بعد میں امریکا نے اس کو غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا اور اس پر پابندی عاید کردی تھی۔النصرہ محاذ نے شامی رجیم کے خلاف بہت سے تباہ کن بم حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور متعدد خودکش بم دھماکے کیے ہیں۔