.

اخوان المسلمون کے 87 حامیوں کو مظاہروں پر قید کی سزائیں

بلووں اور ہتھیار رکھنے پرمجرموں کو 50،50 ہزار مصری پاؤنڈز فی کس جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون کے ستاسی حامیوں کو بلووں ،ہنگامہ آرائی اور ہتھیار رکھنے کے الزامات میں قصوروار قرار دے کر تین سال تک قید کی سزائیں سنا دی گئی ہیں۔

قاہرہ کی عدالت کے جج نے ان میں سے اخوان کے تریسٹھ حامیوں کو ایک کیس میں تین سال قید کے علاوہ پچاس،پچاس ہزار مصری پاؤنڈز فی کس جرمانے کی سزا سنائی ہے۔البتہ وہ اپنی سزاؤں کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرسکتے ہیں اوراس دوران جیل جانے سے بچنے کے لیے پانچ ہزار پاؤنڈز مالیت کے ضمانتی مچلکے جمع کراسکتے ہیں۔

قاہرہ کی ایک اور عدالت نے اخوان المسلمون کے چوبیس اور حامیوں کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے الزام میں قصوروار قرار دے کر تین تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ان پر بلووں ،غیر قانونی اجتماع ،پولیس پر حملوں اور مسلح دہشت گرد گروپ سے تعلق کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

جولائی میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اخوان کے حامیوں کی اتنی بڑی تعداد کو ایک ہی کیس میں قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔مصر کی عبوری حکومت اخوان المسلمون پر یہ الزام عاید کررہی ہے کہ اس نے مسلح افواج کے ہاتھوں ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے تشدد کا راستہ اختیار کر لیا ہے لیکن اخوان ایسے الزامات کی تردید کرتی چلی آرہی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ پُرامن رہ کر احتجاج کررہی ہے اور اس کے بجائے خود اس کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد کا سامنا ہے۔

اسی حوالے سے ایک اطلاع یہ سامنے آئی ہے کہ معزول صدر ڈاکٹر مرسی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور سکیورٹی اداروں کو اس ضمن میں معلومات حاصل ہوئی ہیں۔مصر کی وزارت داخلہ کے ترجمان ہانی عبداللطیف نے بدھ کو العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس مبینہ سازش کا انکشاف کیا ہے مگر انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مرسی بدھ کی صبح جیل سے عدالت میں آنے کے لیے تیار تھے لیکن خراب موسم کی وجہ سے انھیں نہیں لایا جاسکا تھا جس کے بعد عدالت کے جج نے ان کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی سماعت یکم فروری تک ملتوی کردی تھی۔