.

عراقی فوج کے بھرتی مرکز میں خودکش بم دھماکا،13 افراد ہلاک

بغداد میں فوج میں بھرتی کے لیے ناموں کا اندراج کرانے والے نوجوان پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں فوج کے ایک بھرتی مرکز میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں تیرہ ریکروٹس ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی پولیس کے مطابق دارالحکومت میں واقع مثنیٰ ائیر فیلڈ میں قائم بھرتی مرکز میں ریکروٹس فوج میں بھرتی کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرارہے تھے،اس دوران حملہ آور بمبار نے ان کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس نے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی۔

فوج میں نئی بھرتی مغربی صوبے الانبار میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے لیے کی جارہی تھی۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔یہ واقعہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے اس بیان کے ایک روز بعد رونما ہوا ہے جس میں انھوں نے ملک سے القاعدہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے بدھ کو ایک نشری تقریر میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف مغربی شہروں رمادی اور فلوجہ میں لڑائی میں فتح کی پیشین گوئی کی تھی لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کی سکیورٹی فورسز کو القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔نوری المالکی نے اسی ہفتے الانبار کے قبائل سے کہا تھا کہ وہ القاعدہ کے خلاف جنگ میں حکومت کا ساتھ دیں اور جنگجوؤں کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کریں۔انھوں نے عراقیوں کو رضاکارانہ طور پر اس جنگ میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی۔