.

غزہ میں حماس کے زیرانتظام جیل سے فتح کے ارکان کی رہائی

حماس حکومت کااسماعیل ہنیئہ کی فتح سے مصالحت کے لیے کوششوں کے تحت اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس نے مغربی کنارے میں حکمراں اپنی حریف فتح کے ساتھ اختلافات کے خاتمے کے لیے اس کے سات ارکان کو رہا کردیا ہے۔

حماس کی وزارت داخلہ کے ترجمان اسلام شاہوان نے صحافیوں کو بتایا کہ ''ان سزا یافتہ افراد کو وزیراعظم کے قومی مصالحت کو مضبوط بنانے کے لیے فیصلے کے حصے کے طور پر رہا کیا گیا ہے۔اس کے بعد مزید مثبت اقدامات بھی کیے جائیں گے''۔

حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنیئہ نے دوروز قبل فتح سے کہا تھا کہ 2007ء میں ان کی غزہ کی پٹی میں حکومت کے قیام کے بعد اس کے جو ارکان اس علاقے سے چلے گئے تھے۔انھیں واپس آنے کی اجازت ہوگی۔البتہ حماس کے کارکنان کے قتل میں ملوث لوگوں کو واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''حماس کی حکومت غزہ سے تعلق رکھنے والے فتح کے ارکان کو کسی پیشگی شرط کے بغیر واپس آنے کی اجازت دے گی''۔حماس کی جانب سے مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے صدرمحمودعباس کی جماعت فتح کے ساتھ حال ہی میں تعلقات بہتر بنانے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

اسماعیل ہنیئہ نے اکتوبر میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی اور ان سے مصالحت اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

واضح رہے کہ حماس اور فتح کے درمیان 2007ء سے کشیدگی چلی آرہی ہے۔تب محمود عباس نے اسرائیل اور مغربی ممالک کے دباؤ پر حماس کی منتخب حکومت کو ختم کردیا تھا جس کے ردعمل میں حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی الگ سے حکومت قائم کرلی تھی اوروہاں سے فتح کے ارکان کو جھڑپوں کے بعد ماربھگایا تھا۔

اس کے بعد سے دونوں جماعتوں کے درمیان مصالحت کے لیے متعدد کوششیں کی گئی ہیں اور مصر نے 2011ء میں ان کے درمیان ایک مصالحتی معاہدہ بھی کرایا تھا جس کے تحت دونوں جماعتوں نے آزاد ماہرین پر مشتمل نگران حکومت کے قیام اور فلسطینی علاقوں میں نئے صدارتی ،پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کرانے سے اتفاق کیا تھا لیکن اب تک اس معاہدے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔