.

سلامتی کونسل: القاعدہ کیخلاف عراقی کوششوں کی حمایت

متفقہ طور پر جاری کیے گئے بیان میں قومی مکالمے پر بھی زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے عراق کے صوبہ انبار میں القاعدہ کی گرفت ختم کرنے کیلیے عراقی حکومت کی کوششوں اور سکیورٹی فورسز کے استعمال کی حمایت کی ہے۔ یواین کی پندرہ رکنی سکیورٹی کونسل نے عراقی وزیراعظم نورالمالکی کی حمایت میں جاری کیے گئے بیان میں ان کی مکمل تائید کی ہے۔

ماہ دسمبر کے اواخر سے عراقی حکومت کو صوبہ انبار کے دواہم شہروں میں زبردست چیلنج کا سامنا ہے۔ جبکہ القاعدہ نے ماہ جولائی کے پہلے ہفتے سے فلوجہ اور رمادی میں کافی حد تک کنٹرول کر لیا تھا۔ عراقی فورسز مقامی قبائل کی مدد سے رمادی میں جمعے کے روز سے القاعدہ کے خلاف پیش قدمی کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے القاعدہ سے منسلک سرگرم گروپ آئی ایس آئی ایل کے کنٹرول کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کی اور کہا ہے عراقی حکومت کی طرف سے پورے عراق کے عوام کی حفاظت کی سعی ضروری ہے۔

یواین سکیورٹی کونسل نے اپنے متفقہ تائیدی بیان میں مزید کہا ہے کہ عراقی قبائل، عمائدین اور عراقی فورسز کو مل کر صوبہ انبار میں تشدد کیخلاف جاری کوششں کو مزید مضبوط کرنا چاہئیے۔'' بیان میں مسلسل قومی مکالمے کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اسے بھی جاری رکھنے کیلیے کہا گیا ہے۔


واضح رہے اس صوبے میں سنی اکثریت کے حکومتی پالیسیوں سے ناراض ہونے کا القاعدہ کو فائدہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے عراقی فورسز کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اب جمعہ کے روز سے رمادی میں القاعدہ کا گھیرا تنگ ہونے کی امید بڑھ گئی ہے۔