.

پولیس اور قبائل نے رمادی کے بعض حصوں کا کنٹرول سنھبال لیا

"داعش" اور پولیس کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شورہ زدہ صوبے الانبار کے ایک قبائلی رہ نما نے اطلاع دی ہے کہ پولیس اور قبائلی جنگجوؤں نے مرکزی شہر الرمادی کی دو بڑی کالونیوں کا کنٹرول دوبارہ سنھبال لیا ہے، جہاں سے القاعدہ سے وابستہ شدت پسند تنظیم "دولت اسلامیہ عراق وشام" کے جنگجو فرار ہو گئے ہیں۔

رمادی کے ایک قبائلی عمائد محمد خمیس ابو ریشہ نے میڈیا کو بتایا کہ ہمارے کارکنوں اور پولیس نے مشترکہ کارروائی میں فرسان اور ملاعب کے مقامات کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔

قبل ازیں جمعہ کو اطلاعات آئی تھیں کہ رمادی میں البوبالی کے مقام پر قبائلی جنگجوؤں اور شدت پسندوں کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔ شدت پسند تنظیم "داعش" نے البوبالی میں قبائل اور پولیس کا راستہ روکنے کے لیے بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں جس کے باعث مقامی آبادی بھی خطرات میں گھر گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق باغوں میں گھرے فلوجہ اور الرمادی کے درمیان "البوبالی" کے مقام پر سنہ 2007ء کے بعد القاعدہ اور مقامی قبائل میں بدترین جھڑپیں ہوئی ہیں۔ سنہ 2007ء سے قبل اس علاقے کو القاعدہ کا گڑھ سمجھا جا تا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق فلوجہ کے آس پاس فوج نے جنگی ساز و سامان جمع کرنا شروع کردیا ہے۔ ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ فوج شہر کوعسکریت پسندوں سے پاک کرنےکے لیے ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔

قبل ازیں عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے فلوجہ کے شہریوں پر زور دیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں فوج کا تعاون کریں اورعسکریت پسندوں کو شہر سے نکال باہر کریں۔ فلوجہ اور رمادی میں پچھلے ایک ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد انسانی حقوق کی عالمی تنظیم" ہیومن رائٹس واچ" نے فوج اورعسکریت پسند گروپوں دونوں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ فوج کی وحشیانہ گولہ باری کےنتیجے میں فلوجہ اور رمادی کے شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ گولہ باری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی پر مجبور ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو متاثرین تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔