.

یمن: شمالی صوبے میں فوج کی تعیناتی شروع

تین ماہ سے جاری شیعہ سلفی لڑائی بند کرنے کے بعد فوج پہنچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شیعہ باغیوں اور شدت پسند سلفیوں کے درمیان جنگ بندی کے بعد یمنی فورسز کی ہفتے کے روز سے شمالی صوبے میں تعیناتی شروع کر دی گئی ہے۔ اس امر کی تصدیق یمن کے سکیورٹی حکام نےبھی کر دی ہے۔ عالمی خبرساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری افواج کی نفری صوبہ ساعدا کے علاقے دماج میں بھیجی گئی ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق علاقے میں موجود باغیوں میں سے بعض ابھی تک اپنے مورچوں میں مسلح حالت میں موجود ہیں۔ متحارب گروپوں کے درمیان معاہدہ صدارتی کمیشن کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ گروپوں کے درمیان لڑائی پچھلے سال اکتوبر کے اواخر میں چھڑی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لڑائی کا مرکز دماج میں سلفیت سے تعلق والی ایک مسجد اور قرآنی تعلیم کا ایک ادارہ بنا، لیکن بعد ازاں لڑائی پورے شمالی صوبے میں پھیل گئی۔ یمن کے ان لڑائی میں مصروف رہنے والے شیعوں کو مبینہ طور پر ایران کی حمایت حاصل ہونے کا کہا جاتا ہے اور یہ حوثی قبائل کے نام سے مشہور ہیں۔

یہ معاہدہ دونوں متحارب فرقوں کے درمیان دماج میں ممکن ہوا ہے، تاکہ پورے یمن میں فرقہ وارانہ تقسیم کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ اس سلسلے میں صدارتی کمیشن کامیاب رہا۔

یمنی شیعہ اپنےمرحوم لیڈر عبدالمالک حوثی کے نام سے خود کو حوثی کہلواتے ہیں اور یہ زیدی شیعہ کمیونٹی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ 2004 میں اس وقت منظم ہوئے جب یمن میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت تھی اور ان کا موقف تھا کہ صدر صالح شیعہ کمیونٹی کو ان کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔

شیعوں کا الزام ہے کہ سلفیوں نے دماج شہر میں دارالحدیث قرآنی سکول کے نام پر دماج کو غیر ملکی مسلح افراد کا مرکز بنا دیا ہے۔ واضح رہے اس دینی تعلیم کے مرکز میں یمن سے باہر کے طلبہ بھی استفادہ کرتے ہیں۔