.

مصر:نئے آئین پر ریفرینڈم سے قبل مظاہروں کے دوران تین افراد ہلاک

ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے الزام میں اخوان کے 169 حامی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں نئے متنازعہ آئین پر ریفرینڈم سے صرف چارروز قبل حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان جھڑپ میں ایک ریڑھی بان گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا۔پولیس نے فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا تعلق کالعدم جماعت اخوان المسلمون سے ہے۔اسکندریہ میں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں مزید پچیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سویز شہر میں بھی اخوان المسلمون کے حامیوں کی پولیس اور اپنے مخالفین کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں اور وہاں دو افراد مارے گئے ہیں۔اخوان المسلمون کے حامیوں نے نماز جمعہ کے بعد دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے ایک سو انہتر مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اخوان المسلمون کے حامی جولائی میں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔اس معتوب جماعت نے 14 اور 15 جنوری کو ملک کے نئے آئین پر ہونے والے ریفرینڈم کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔اس ریفرینڈم کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کی مقبولیت جانچنے کا پیمانہ بھی قراردیا جارہا ہے۔

مصر کی مسلح افواج کےتحت عبوری حکومت نے نومبر میں ہر طرح کے مظاہروں کی روک تھام کے لیے ایک متنازعہ قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت کسی بھی قسم کے اجتماع اور ریلی کی حکومت سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے لیکن اس قانون کے نفاذ کے باوجود قاہرہ اور دوسرے شہروں میں جامعات کے طلبہ اور اخوان المسلمون کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔