.

اومان: کرپشن کے الزام میں سرکاری ونجی حکام کو سزا

بددعنوانی سنگین مسئلہ بن گیا، معاشی شعبے میں تشویش کی لہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلطنت آف اومان کے اہم سرکاری اور نجی شعبے کے منتظمین کو کرپشن الزامات کے تحت تین سال قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا ہے۔ اس فیصلے نے ملک کے معاشی ماحول کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بیس سرکاری اور نجی حکام آئل انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور انہوں نے ملکی انفراسٹرکچر سے متعلق ٹھیکے دینے میں رشوت قبول کی تھی۔

واضح رہے کہ ان دنوں اومان میں کرپشن ایک حساس معاملہ ہے۔ اس کی وجہ سے 2011 میں کرپشن اور بے روزگاری کیخلاف عوامی سطح پر احتجاج سانے آیا تھا۔

عدالت نے اس سلسلے میں سب سے پہلے وزارت خزانہ کے افسر جمعہ الحنائی کو سزا دی تھی۔ جمعہ الحنائی ریاستی ادارے پٹرولیم ڈویلپمنٹ منسٹری کی ٹینڈر کمیٹی کے سربراہ تھے۔ عدالت نے انہیں تین سال قید اور چھ لاکھ ریال جرمانے کرتے ہوئے کسی بھی سرکاری منصب کیلے نا اہل قرار دیدیا تھا۔

عدالت نے گلفار انجینئیرنگ کے مینجنگ ڈائریکٹرمحمد علی کےعلاوہ عبدالمجید نوشاد کو بھی دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عبدالمجید نوشاد نے ابتدا میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔ انہیں دولاکھ ریال جرمانہ بھی کیا ہے۔

پٹرولیم ڈویلپمنٹ کے حکام کے ساتھ نے ان سزاوں کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس مقدمے کا آغاز ماہ نومبر میں کیا گیا تھا۔ جمعہ الحنائی نے گلفار آپریشنز کے علی سے ٹھیکہ دینے کیلیے دولاکھ ریال رشوت لینے کا اعتراف کیا تھا۔

واضح رہے اومان خلیجی ممالک میں تیل کی پیداوار کے حوالے سے ایک اہم ملک ہے۔ یومیہ 950000 بیرل تیل پیدا ہوتا ہے۔ ملکی آمدنی کا تیل اہم ترین ذریعہ ہے۔