.

مصر کا نیا صدر مکمل بااختیار ہوگا:عدلی منصور

نیا آئین ملک کو ایک جدید شہری ریاست بنا دے گا:نشری تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے کہا ہے کہ نئے صدر کو مکمل اختیار حاصل ہوں گے اور نیا آئین ملک کو جدید شہری ریاست بنا دے گا۔

انھوں نے یہ بات اتوار کی شب ایک نشری تقریر میں کہی ہے لیکن انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ نئے صدر کو کیا کیا اختیارات حاصل ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ مصر کو اس وقت شدید حملے کا سامنا ہے۔انھوں نے اسلام کی غلط تعبیر کرنے اور مصری عوام کی خونریزی کو جائز قرار دینے والوں کو خبردار کیا اور اسلام کی اعتدال پسندانہ تفہیم کی ضرورت پر زوردیا۔

عدلی منصور نے کہا کہ ''ہمیں اپنی اسلامی اقدار اور اس کے اصولوں کے تحفظ کے لیے مذہبی تعبیر وتفہیم پر نظرثانی اور مذہبی انتشار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے''۔

انھوں نے مصریوں پر زوردیا کہ وہ قوم کے جہاز کو تحفظ کے ساحلوں پر لانے کے لیے آگے بڑھیں اور نئے آئین کے حق میں ووٹ دیں جس میں ان کے بہ قول اعتدال پسند اسلام کو قانون سازی کا منبع قراردیا گیا ہے۔

عدلی منصور جب اپنی نشری تقریر میں مصریوں پر آئین پر ہونے والے ریفرینڈم کے لیے ووٹ ڈالنے پر زوردے رہے تھے،عین اس وقت قاہرہ کی تین جامعات میں برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی طلبہ اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔

عبوری حکومت کے تحت مرتب کردہ نئے آئین پر مصر میں منگل اور بدھ کو ریفرینڈم ہورہا ہے اور مصری حکام کا کہنا ہے کہ اس موقع پر کسی گڑ بڑ سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی۔

مصر کے قریباً پانچ کروڑ بیس لاکھ ووٹرز ریفرینڈم میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں اور وہ یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ مرسی حکومت کے وضع کردہ دستور میں موجودہ عبوری حکومت کی جانب سے کی جانے والی ترامیم کے حق میں ہیں یا نہیں۔

3 جولائی 2013ء کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سیکولر طرز فکر کے حامل سیاست دانوں اور قانونی ماہرین پر مشتمل دو پینلوں نے آئین کو ازسرنو مرتب کیا ہے۔

اگر ریفرینڈم میں مصری عوام نئے آئین کی منظوری دے دیتے ہیں تو اس سے مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کو بھی قانونی جواز مل جائے گا اور وہ پھر اسی سال صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد کرانے کے منصوبے پر بھی زیادہ اعتماد کے ساتھ عمل پیرا ہوسکے گی۔

آئینی ریفرینڈم کو تجزیہ کار اور ماہرین مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کی مقبولیت جانچنے کا ایک پیمانہ بھی قرار دے رہے ہیں اور وہ خود کو طاقتور صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔اس ضمن میں ان کے حامیوں نے باقاعدہ مہم کا بھی آغاز کردیا۔

دوسری جانب برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں اور گروپوں نے عبوری حکومت اور اس کے وضع کردہ نئے آئین کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔اتوار کو جامعہ قاہرہ اور جامعہ عین الشمس کے طلبہ وطالبات نے مارچ کیا،ٹائر جلائے اور مرکزی شاہراہوں کو بند کردیا۔

تاریخی جامعہ الازہر کے طلبہ نے بھی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے جس کے جواب میں طلبہ نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔عینی شاہدین کے مطابق طلبہ نے پولیس کی ایک گاڑی اور ایک ٹریفک پوسٹ کو نذرآتش کردیا۔ایک سکیورٹی عہدے دار کے بہ قول پولیس نے ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے پر انیس طلبہ مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔