.

بشارالاسد عوام میں نمودار،نماز کے لیے دمشق کی مسجد میں آمد

شام کے مفتیٔ اعظم احمد حسون اور وزیراعظم وائل الحلقی بھی صدر کے ہمراہ تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشارالاسد طویل عرصے کے بعد عوام میں نمودار ہوئے ہیں اور انھوں نے اتوار کو دارالحکومت دمشق کی مسجد الحمد میں نماز اداکی ہے۔

شامی صدر دارالحکومت دمشق کے شمال مغرب میں واقع مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم میلاد کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔اس موقع پر مفتیٔ اعظم شام احمد بدرالدین حسون اور وزیراعظم وائل احلقی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ان کی مسجد میں آمد کی فوٹیج شام کے سرکاری ٹی وی سے نشر کی گئی ہے۔

وہ مارچ 2011ء سے اپنے خلاف جاری عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران خال خال ہی عوام کے سامنے آئے ہیں اور اپنے صدارتی محل تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔قبل ازیں وہ 15 اکتوبر کو عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں آئے تھے اور عوام میں نمودار ہوئے تھے۔

بشارالاسد ایسے وقت میں منظرعام پر آئے ہیں جب شام کے شمالی شہروں میں باغی جنگجو آپس میں برسرپیکار ہیں اور ان کے درمیان گذشتہ دس روز سے جاری لڑائی میں سات سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔دوسرکی جانب پیرس میں منعقدہ دوستان شام ممالک کے اجلاس میں اس بات سے اتفاق کیا گیا ہے کہ شام کے مستقبل میں بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ان ممالک نے شام میں جاری بحران کے پرامن سیاسی حل کے لیے حزب اختلاف کے قومی اتحاد پر زوردیا ہے کہ وہ جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت کرے اور خانہ جنگی کا شکار ملک میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے اسد رجیم کے ساتھ بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائے۔