.

القاعدہ کی بیخ کنی کے لئے مغربی ممالک کے اسد رجیم سے رابطے

مغرب سمجھنے لگا ہے کہ بشار الاسد کا متبادل موجود نہیں: فیصل مقداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی ممالک کے حساس اداروں نے شام کے سکیورٹی معاملات پر گفتگو کیلیے بشار الاسد رجیم سے رابطہ کر لیے ہیں۔ مغربی ملکوں کی طرف سے یہ رابطے شام میں اسلام پسند جہادی گروپوں کے چیلنج سے نمٹنے کیلیے کیے جا رہے ہیں۔

رابطوں کی شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے بھی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے ان مغربی ممالک کے نام ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے کہ رابطے کرنے والوں میں کون کون سے ملک شامل تھے۔ شامی نائب وزیر خارجہ نے اس حوالے سے برطانیہ کے رابطے کرنے کے سوال پر بھی معذرت کی ہے۔

ان رابطہ کرنے والوں میں وہ مغربی ممالک بھی شامل ہیں جو بشار الاسد رجیم کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ فیصل مقداد نے کہا کہ مغربی ممالک کے حساس اداروں اور سیاستدانوں کی اسد رجیم کے ساتھ مخالفت میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا ''اب بہت سے ایسے مغربی ملک ہیں جو یہ سمجھنے لگے ہیں بشار الاسد کا کوئی متبادل نہیں ہے۔''

اس کی ایک وجہ شام کے شمالی علاقوں میں القاعدہ کے اثرات کا بڑھنا ہے۔ مغربی ممالک شام میں غیر ملکی اسلام پسندوں کی موجودگی پر پریشان ہیں۔ واضح رہے القاعدہ بشار الاسد حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ شامی نائب وزیر خارجہ نے اس بارے میں کہا '' اب مغربی ملکوں کی سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے۔''

فیصل مقداد نے مزید کہا کہ "ان مغربی ملکوں نے شام سے دوطرفہ تعاون پر بات کی ہے۔'' واضح رہے ان دنوں شام کے حکام 22 جنوری سے جنیوا میں شروع ہونے والی دوسری امن کانفرنس میں شرکت کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم شامی قومی کونسل سمیت اپوزیشن اتحاد نے ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے۔