.

امریکا،خلیجی ریاستوں کے شام کے لیے ایک ارب ڈالرز امداد کے وعدے

شام کی نصف سے زیادہ آبادی کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے:بین کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور خلیجی ریاستوں سمیت ڈونرز نے شام میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک ارب ڈالرز سے زیادہ رقوم دینے کے وعدے کیے ہیں۔

امریکا کی جانب سے وزیرخارجہ جان کیری نے بدھ کو کویت شہر میں منعقدہ عالمی ڈونرز کانفرنس کے دوران شام کے لیے انسانی ہمدردی کے طور پر مزید اڑتیس کروڑ ڈالرز دینے کا اعلان کیا ہے۔

کانفرنس کے میزبان ملک کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے خانہ جنگی سے متاثرہ شامی عوام کے لیے پچاس کروڑ ڈالرز ،قطر نے چھے کروڑ ڈالرز اور سعودی عرب نے چھبیس کروڑ ڈالرز دینے کے وعدے کیے ہیں۔

اس ایک روزہ عالمی امدادی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون ،انہتر ممالک کے نمائندے اور چوبیس بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے مندوبین شریک تھے۔

بین کی مون نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گذشتہ تین سال سے خانہ جنگی کا شکار شام کے حوالے سے خوفناک اعدادوشمار پیش کیے۔انھوں نے کہا کہ اس وقت شام کی نصف سے زیادہ آبادی کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے اور شام کے چالیس فی صد اسپتال اس وقت کام نہیں کررہے ہیں۔

کویت کے خیراتی اداروں نے ایک روز قبل امیر شیخ صباح الاحمد الصباح کی اپیل پر شامی عوام کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہم کے دوران چالیس کروڑ ڈالرز دینے کے وعدے کیے تھے۔اقوام متحدہ نے شام میں جاری خانہ جنگی سے متاثر ہونے والے ساٹھ لاکھ سے زیادہ افراد کے لیے ساڑھے چھے ارب ڈالرز کی امداد کی اپیل کی تھی۔

اقوام متحدہ کی انسانی امور کی سربراہ ولیری آموس کے مطابق ان میں سے دوارب تیس کروڑ ڈالرز شام میں ترانوے لاکھ افراد اور چار ارب بیس کروڑ ڈالرز دوسرے ممالک میں مقیم اکتالیس لاکھ شامی مہاجرین کو امدادی سامان، خوراک،ادویہ وغیرہ مہیا کرنے پر خرچ کیے جائیں گے۔

امدادی ایجنسیوں کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ایک کروڑ پانچ لاکھ شامیوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔پانچ سال سے کم عمر کے دس لاکھ سے زیادہ بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔شام کی قریباً نصف آبادی کی پانی کے صاف پانی یا حفظان صحت تک کوئی رسائی نہیں ہے اور چھیاسی لاکھ کو صحت عامہ کی ناکافی سہولتوں کا سامنا ہے۔

خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شامیوں کی بڑی تعداد اس وقت پڑوسی ملک لبنان میں پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہی ہے۔لبنان میں نولاکھ پانچ ہزار ،اردن میں پانچ لاکھ پچھہتر ہزار ،ترکی میں پانچ لاکھ باسٹھ ہزار ،عراق میں دو لاکھ سولہ ہزار اور مصر میں ایک لاکھ پینتالیس شامی پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے پیشین گوئی کی ہے کہ اگر شام میں حالات بہتر نہیں ہوتے اور خانہ جنگی جاری رہتی ہے تو 2014ء کے اختتام تک لبنان میں مقیم شامی مہاجرین کی تعداد بڑھ کر ساڑھے سولہ لاکھ ،اردن میں آٹھ لاکھ ،ترکی میں دس لاکھ ،عراق میں چار لاکھ اور مصر میں ڈھائی لاکھ ہوجائے گی۔