.

نئے مصری دستور کیلیے ریفرنڈم کا دوسرا دن، پہلے روز 11 ہلاکتیں

ایک لاکھ اسی ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات، اگلے مرحلے پر صدارتی انتخاب ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں فوجی سرپرستی میں قائم عبوری حکومت کے پیش کردہ نئے آئین کی عوام سے منظوری لینے کیلیے ریفرنڈم کا آج دوسرا اور آخری دن ہے۔ جولائی 2013 میں مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد دیے گئے روڈ میپ میں پہلے مرحلے پر نئے دستور کیلیے ریفرنڈم کا اعلان کیا گیا تھا۔

بدھ کے روز مقامی وقت صبح نو بجے سے ریفرنڈم کیلیے پولنگ شروع کرانے کی خاطر منگل کے روز کے مقابلے میں بھی زیادہ سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ واضح رہے منگل کے روز معزول صدر مرسی کے حامیوں کے احتجاج کے دوران لگ بھگ ایک درجن شہری سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے دوران ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے تھے۔

مصر کی سب سے منظم اور بڑی سیاسی جماعت نے اس ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز نے ریفرنڈم کیخلاف ہر کوشش کو کچلنے کی تیاری کر رکھی ہے۔ سرکاری حکام نے پہلے دن کی پولنگ کو بھی مجموعی طور پر پر امن قرار دیا ہے۔

ریفرنڈم کو احتجاجی تنظیموں کے احتجاج سے محفوظ رکھنے کیلیے مجموعی طور پر ایک لاکھ اسی ہزار سکیورٹی اہلکار وں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ پرامن ریفرنڈم کے بعد صدارتی انتخاب اور پارلیمانی انتخاب کا عمل ممکن ہو جائے۔ خیال رہے جنرل عبدالفتاح السیسی نے بھی ایک فوجی تقریب میں صدارتی امیدوار بننے کا نیم مشروط عندیہ دے دیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم جنرل سیسی کی عوام میں ہر دلعزیزی کا بھی ایک پیمانہ ہوگا کہ عوام ان کے ساتھ ہیں یا اب بھی عوام پہلے جمہوری صدر کی حمایت پر کمر بستہ ہیں۔

نئے دستور میں ایک طرف خواتین کی آزادیوں کے حوالے سے ماضی کے مقابلے میں لبرل سوچ اختیار کی گئی ہے اور دوسری جانب فوج کو حکومت اور عدلیہ پر بعض پہلووں سے زیادہ موثر بنایا گیا ہے۔