.

وزیرا عظم کا قافلہ روکنے پر فلسطینی اتھارٹی اسرائیل پر سخت برہم

رامی الحمد للہ کا ناکے پر صہیونی فوج کو کاغذات دکھانے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ملٹری پولیس اور یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی وزیر اعظم رامی الحمد للہ کا قافلہ روکے جانے اور کاغذات چیک کرانے پر فلسطینی اتھارٹی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے صہیونی ریاست سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ کل منگل کواس وقت پیش آیا جب وزیر اعظم رامی الحمد للہ رام اللہ سے نابلس جا رہے تھے۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سےواقعے پر فوری رد عمل میں کہا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے وزیر اعظم کی دانستہ طور پر توہین کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کے مطابق فلسطینی حکومت کے ترجمان ایہاب بسیسیو نے رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم رام اللہ سے نابلس جا رہے تھے کہ ان کا قافلہ اسرائیلی پولیس اور یہودی آباد کاروں نے ایک مرکزی شاہراہ پر روک لیا۔ وزیراعظم سے کاغذات طلب کیے گئے لیکن انہوں نے کاغذات دکھانے سے انکار کر دیا جس کے بعد ان کا قافلہ ایک گھنٹے تک روکے رکھا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ صہیونی پولیس حکام نے وزیر اعظم رامی الحمد للہ سے کہا کہ آپ اکیلے جا سکتے ہیں لیکن آپ کے ہمراہ سات مسلح محافظوں کو آگے جانے کے اجازت نہیں۔ وزیر اعظم نے اسرائیلی پولیس کا یہ مطالبہ بھی مسترد کر دیا۔

فلسطینی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی پولیس نے جو طرز عمل اختیار کیا وہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا۔ اسرائیل ہمیں یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ جب اور جس فلسطینی اہم شخصیت کی توہین کرنا چاہے تو وہ بلا روک ٹوک کرسکتی ہے۔ اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس جگہ رامی الحمد للہ کا قافلہ روکا گیا وہاں ناکہ لگا کر گاڑیوں کی چیکنگ کی ہر گز ضرورت نہیں تھی۔ اسرائیلی پولیس صرف فلسطینیوں کو پریشان کرنے کے لیے اپنی مرضی کے مطابق ناکے لگا کرگاڑیوں کی تلاشی شروع کردیتی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی پولیس کا دعویٰ مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ فلسطینی وزیر اعظم کا قافلہ تیز رفتاری کے باعث روکا گیا تھا۔

اُدھر اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سمری کا کہنا ہے کہ فلسطینی وزیراعظم کے قافلے کو شبے کی بنیاد پر روکا گیا تھا جوکہ پولیس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری تھی لیکن معلوم ہونے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ لیکن ہماری پولیس کی جانب سے روکنے پر فلسطینی وزیر اعظم سخت برہم تھے۔ وہ خود ہی چیک پوسٹ پر رکے رہے اور اپنی مبینہ توہین پر پولیس سے معافی کا مطالبہ کرتے رہے۔

مسز سمری کا کہنا تھا کہ فلسطینی وزیراعظم کا قافلہ تیز رفتاری پر روکا گیا کیونکہ جس رفتار سے ان کی گاڑیاں جا رہی تھیں وہ راہ چلنے والے دوسرے مسافروں کے لیے خطرے کا موجب بن سکتی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ رام الحمد للہ کا قافلہ روکنے والے پولیس اہلکار فلسطینی محافظوں نے تشدد کیا۔ اس کے علاوہ پولیس کی گشتی پارٹی کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی تاہم انہوں نے رامی کا قافلہ روکے جانے میں یہودی آباد کاروں کی موجودگی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔