.

اسرائیلی وزیراعظم کا اردن کا غیر علانیہ دورہ، شاہ سے ملاقات

امن مذاکرات اور اردنی سرحد پر اسرائیلی فوج کی تعیناتی زیر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اردن کا غیر علانیہ دورہ کر کے اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں مشرق وسطی کی تازہ صورت حال کے علاوہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کی پیش رفت و مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ماضی میں دونوں حکمرانوں کے درمیان اس نوعیت کی ملاقات کم ہی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم امن مذاکرات کے پیش کار امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی طرف سے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی پر مذاکرات آگے بڑھانے کیلیے موجود دباو نے اس ملاقات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس اہم ملاقات کے دوران مجوزہ آزاد فلسطینی ریاست کی اردن سے ملنے والی سرحد پر اسرائیلی فوج کے موجودگی اور نگرانی کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔ واضح رہے اس تجویز کو فلسطینی یکسر مسترد کرتے ہیں اور وہ کسی بھی صورت سرائِلی فوج کی اردنی سرحد کیساتھ موجودگی کو اپنی آزادی کیلیے اچھا نہیں سمجھتے ہیں۔

شاہ عبداللہ اور نیتن یاہو نے اس غیر علانیہ ملاقات کے دوران اس بارے میں دونوں طرف کی خیالات سے آگاہی حاصل کی۔ ،شاہ عبداللہ نے اس موقع پر مسئلہ فلسطین کے حل کیلیے فلسطینیوں کے احساسات کے مطابق حل کرنے پر زور دیا نیز اردن کے مفادات کے تحفظ کا بھی خیال رکھنے کیلیے کہا ۔''

جان کیری چار دن کے تفصیلی دورے کے بعد پچھلے ہفتے ہی خطے سے واپس امریکا گئے ہیں۔ اپنے اس دورے کے موقع پر انہوں نے اسرائیلی اور فلسطینی ذمہ داروں سے سیر حاصل گفتگو کی ہے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اردن کا اچانک دورہ جان کیری کے کہنے پر کیا ہے یا ان کا یہ اپنا فیصلہ تھا۔ اچانک ہونے والی اس ملاقات پر فی الحال فلسطینی موقف بھِی سامنے نہیں آیا ہے۔