.

بیروت دھماکے کے جلو میں رفیق حریری کے مقدمہ قتل کی سماعت

دھماکا حزب اللہ کے گڑھ میں ہوا، دو ہلاک 15 پندرہ زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کا ہرمل شہر جمعرات کے روز ایک زور دار کار بم دھماکے سے گونج اٹھا۔ دھماکے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے۔ دھماکہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے گڑھ مشرقی لبنان کی بیکا وادی میں ہوا ہے۔ کار بم دھماکے سے مبینہ طور پر سرکاری دفاتر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ دھماکہ سرکاری عمارت کے سامنے ہوا ہے ۔

یہ کار بم دھماکہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب لبنان کے مقتول وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کے مقدمے کی سماعت ہو رہی تھی۔ یہ مقدمہ حزب اللہ کے چار ارکان کیخلاف ان کی عدم موجودگی میں اقوام متحدہ کی زیر سرپرستی ایک خصوصی عدالت میں چلایا جا رہا ہے۔

ارب پتی لبنانی وزیر اعظم رفیق الحریری کو 2005 میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ دہشت گردی کی اس کارروائی میں مزید 22 افراد ہلاک اور 226 ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس خوفناک کارروائی کا سراغ لگانے کیلیے ایک ٹریبیونل قائم کرنے کیلیے کہا۔ ابتدائی طور پر اس دہشت گردی کی ذمہ داری شام کے حامی ایک لبنانی جرنیل پر ڈالی گئی۔

سنہ 2011 میں عدالت نے مصطفی بدر الدین سمیت کل چار ملزمان کی گرفتاری کیلیے وارنٹ جاری کر دیے۔ یہ چاروں حزب اللہ کے ارکان ہیں اور ان میں سلیم عیاش، حسین انیسی اور اسد صبرا شامل ہیں۔ ایک پانچویں ملزم حسن حبیب کا نام 2013 میں شامل کیا گیا۔

عالمی ادارے کی نگرانی میں قائم ہونے والی یہ عدالت اپنی نوعیت کی واحد عدالت ہے جو دہشت گردی کے مقدمے کی سماعت ملزمان کی عدم موجودگی میں کرے گی۔

لبنان، جو پچھلے تین ماہ سے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی زد میں ہے، رفیق الحریری کے مقدمہ قتل کی سماعت کے آغاز کے ساتھ ہی ہرمل میں ہونے والا دھماکہ خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے۔