.

عراق میں چودہ سنی مغویان کو ہلاک کر دیا گیا

تمام کا تعلق سنی اکثریتی آبادی سے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد کے شمال میں ان 14 مغویان کی لاشیں مل گئی ہیں جنہیں فوجی یونیفارم میں ملبوس عسکریت پسندوں نے جمعرات کی صبح اغوا کر لیا تھا۔

تمام ہلاک کیے گئے افراد کا تعلق سنی اکثریتی آبادی سے تعلق ہے جہاں ان کی لاشیں بھجوا دی گئی ہیں۔ اغوا کے بعد ہلاک کیے گئے ان افراد میں سے پانچ کا تعلق ایک ہی خادان سے بتایا گیا ہے جو آپس بھائی اور دوسرے قریبی رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق تمام چودہ ہلاک کیے گئے لوگوں کو ان کے سروں اور سینوں میں گولیا ں ماری گئیں۔ جس سے ان کی فوری طور پر موت واقع ہوئی۔ اس وحشیانہ کارروائی کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے یہ فرقہ وارانہ وجوہ ظاہر کرتی ہے۔

امریکی حملے اور صدام کے خاتمے کے بعد عراق مسلسل لہو رنگ ہے۔ جس میں فرقہ وارانہ قتل غارت گری نمایاں ہے۔ پچھلے ماہ سے صوبہ انبار میں حکومت اور سنی اکثریتی آبادی کے درمیان کشیدگی کی وجہ پہلے سنی ارکان پالیمنٹ کی گرفتاری اور بعد ازاں سنی احتجاجی کیمپ کا اکھاڑا جانا بنا تھا۔

صوبہ انبار کے شہر فلوجہ اور رمادی میں اب القاعدہ کی گرفت بھی عراقی حکومت کیلیے چیلنج بن گئی ہے کہ اسی دوران بغداد کے شمال میں واقع سنی قصبے کے ان 14 لوگوں کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے 2006 اور 2007 کے درمیان ہزاروں عراقی شہری اس سنی شیعہ تصادم کا شکار ہو چکے ہیں۔ ادھر امریکا، جس کے حملے کے بعد عراق تباہی سے دوچار ہوا ہے، کے سینیٹ میں عراق جنگ کے باضابطہ خاتمے کا بل پیش کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے امریکی افواج دو سال قبل عراق سے نکل گئی تھیں۔