.

وائٹ ہاوس ایران کو مزید پابندیوں سے بچانے کیلیے کوشاں

وینڈی شرمین کی بریفنگ نے اضطراب بڑھا دیا ہے: سینیٹر گراہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ ابتدائی جوہری معاہدے پر ناخوش ارکان کانگریس کو رام کرنے کیلیے ہر سطح پر کوشاں ہے لیکن بظاہر اسے اس معاملے میں ابھی تک کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔

امریکا کی جوہری شعبے کی اعلی ترین مذاکرات کار وینڈی شرمین کی طرف سے اس سلسلے میں سینیٹرز کو دی گئی تازہ بریفنگ اور ان سے پابندیوں کو موخر رکھنے کی درخواست کے بعد ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے '' مجھے اس بریفنگ نے پہلے سے زیادہ مضطرب کر دیا ہے۔''

دوسری جانب صدر بش کے ساتھ بطور وزیر دفاع کام کرنے والے رابرٹ گیٹ نے بھی کانگریس کی طرف سے ایران پر امکانی پابندیوں کو غلطی قرار دے دیا ہے اور کہا ہے'' بل کلنٹن سے لے کر صدر اوباما تک ایران کیخلاف پابندیوں کا جو آغاز کیا گیا تھا ان کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا جو پورا ہو گیا ہے۔''تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سینیٹ میں اکثریت کے حامل رہنما ہیری ریڈ سینیٹ میں بل پیش کر کے اپنے ڈیمو کریٹ ساتھی اوباما کو مشکل میں ڈالتے ہیں یا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے میں دو مرتبہ صدر اوباما کی جانب سے ارکان کانگریس پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران پر مزید پابندیاں نہ لگائی جائیں اور سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔ اسی دوران صدر اوباما نے یہ بھی کہا ہے کہ کانگریس کی طرف سے اس کے باوجود مزید پابندیوں کا بل منظور کر لیا گیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔

ارکان کانگریس کے غم و غصہ کو کم کرنے کیلیے اب تک کی آخری کوشش وینڈی شرمین نے کی ہے، لیکن جو ردعمل سینیٹ کے سینئیر رکن لنڈسے گراہم کا سامنے آیا ہے اس سے پہلے سے بھی اضطراب بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔

سینیٹ میں ایران کو مزید پابندیوں کی زد میں لانے کے حامی ہیری ریڈ جنہیں 59 ارکان کی حمایت حاصل ہے اوباما انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود قائل نہیں ہو سکے۔ جبکہ ایوان نمائندگان میں اچھی اکثریت رکھنے کے باوجود ایران مخالف ارکان دوتہائی کی اکثریت کیلیے کوشاں ہے تاکہ صدر ویٹو نہ کر سکے۔

اس سارے عمل کے دوران ریپبلکن رکن سینیٹر باب کروکر نے ایک درمیانی راستہ سجھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کا کہنا ہے کہ ہم 21 جولائی تک پابندیوں کے حق میں ووٹ کو 21 جولائی تک موخر کیوں رکھیں، کیوں نہ پابندیوں کے حق میں یہ ووٹ اسی دن استعمال کر لیا جائے جس دن معاہدے میں آگے بڑھنے میں یہ ناکام ہو جائیں گے۔ ''

واضح رہے ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان 24 نومبر کو ہونے والے ابتدائی جوہری معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز 20 جنوری سے ہونے والا ہے۔ اس صورت میں ایران کو معاشی پابندیوں سے مرحلہ وار نجات ملے گی اور وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی طاقتوں کے مطالبات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گا۔