.

یورپی ممالک کے سفیروں کو اسرائیل نے طلب کر لیا

یہودی بستیوں کے خلاف موقف قابل قبول نہیں: اسرائیلی دفتر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر خارجہ لائبرمین کے حکم پر دفتر خارجہ نے یورپی ممالک کے سفیروں کو فلسطینیوں کی حمایت کرنے پر طلب کر لیا۔ اسرائیلی دفتر خارجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ یورپی ملکوں کے فلسطینیوں کے حق میں جانبدارانہ خیالات سے امن کے امکانات کو نقصان ہو سکتا ہے۔

اس سلسلے میں برطانیہ، فرانس، اٹلی اور سپین کے سفیروں کو بلایا گیا ہے تاکہ وہ اپنی پوزیشن واضح کر سکیں۔ ان ملکوں کے سفیروں کو طلب کرنے کے حوالے سے اسرائیلی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا کہا ہے '' ان کا یکطرفہ موقف فلسطینیوں کی حمایت میں اور اسرائیل قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ اس صورت حال سے یہ لگتا ہے کہ وہ صرف اسرائیل پر الزام لگانے کی کوشش میں ہیں۔''

ترجمان کے مطابق '' مذکورہ یورپی ملکوں کا موقف امن معاہدے کیلیے جاری کوششوں کے حق میں بھی اچھا نہیں ہے اور زمینی حقائق کے بھی منافی ہے۔'' اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ بعض یورپی ملکوں کے سفیروں کو اس لیے طلب کر کے ان سے احتجاج کیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے یہودی بستیوں کے قیام کے خلاف بیان بازی ہے۔

بنجمن نیتن یاہو نے یورپی ممالک کے اس موقف کو منافقانہ قرار دیا۔ واضح رہے گذشتہ ہفتے اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی یہودی بستی میں 1400 نئے مکان تعمیر کرنے کی خاطر ٹینڈر طلب کیے تھے۔ اس بارے میں یورپی ممالک نے اعتراض کیا تھا اور اس اسرائیلی کوشش کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔