.

بہت سی عرب ریاستیں اسرائیل کو دوست سمجھتی ہیں:نیتن یاہو کا دعویٰ

عرب ممالک کو بھی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش لاحق ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت سی عرب ریاستیں اسرائیل کو دشمن نہیں بلکہ دوست سمجھتی ہیں۔

نیتن یاہو نے یہ من پسند دعویٰ ٹورنٹو میں قائم ٹی وی چینل سی ٹی وی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کیا ہے۔ان سے کینیڈین وزیراعظم اسٹیفن ہارپر پر اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے کڑی تنقید کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا۔

ہارپر اسرائیل کے بہت بڑے حامی ہیں اور وہ آیندہ ہفتے صہیونی ریاست اور مغربی کنارے کے دورے پر آنے والے ہیں۔نیتن یاہو نے ہارپر کے اسرائیل نواز موقف کو عرب ممالک کے صہیونی ریاست کے بارے میں موقف سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو دشمن کے بجائے دوست سمجھتے ہیں۔

انھوں نے اسرائیل کے مخالفین کو مخاطب کرکے کہا کہ ''انھیں مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک میں جانا چاہیے جو اب اسرائیل کی حمایت کررہے ہیں اور اس کے بارے میں اب مختلف انداز سے سوچ رہے ہیں''۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے بہت سے ہمسایہ ممالک خطے میں امن چاہتے ہیں اور انھیں بھی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔ان کے بہ قول:''عرب ریاستیں سخت گیر اسلام پسند گروپوں کو خطے کے لیے ایک خطرہ سمجھتی ہیں''۔

''جو لوگ کینیڈا میں اسرائیل نواز موقف پر تنقید کررہے ہیں۔میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ مشرق وسطیٰ میں آئیں۔عرب دنیا میں جائیں تو انھیں پتا چلے گا کہ بہت سے لوگ اپنے اپنے موقف پر نظرثانی کررہے ہیں''۔ان کا کہنا تھا۔

نیتن یاہو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے دعویٰ کیا:''اس لیے جب کینیڈا یہ کہتا ہے کہ اسرائیل ہمارا دوست ہے تو وہ ضروری نہیں کہ عربوں کی مخالفت میں ایسا کہہ رہا ہے بلکہ اس کے برعکس عرب تبدیل ہورہے ہیں۔وہ اب کھلے عام یا ڈھکے چھپے الفاظ میں آپس میں چہ میگوئیاں کرتے ہیں کہ اسرائیل ہمارا دوست ہے لیکن جب وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں تو وہ دوسروں کو مختلف انداز میں نہیں دیکھ رہے ہوتے''۔