.

شام سے فائر کیے گئے راکٹوں سے لبنان میں 7 افراد ہلاک

سرحدی قصبے عرسال میں 7 راکٹ اور 3 راکٹ الہرمل کے آس پاس گرے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام سے فائر کیے گئے راکٹ لبنان کے سرحدی قصبے عرسال میں آکر گرے ہیں جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

لبنان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق شام سے فائر کیے گئے کم سے کم دس راکٹ مشرقی سرحدی علاقے میں گرے ہیں۔لبنان کے سرکاری خبررساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کا کہنا ہے کہ عرسال میں صرف ایک راکٹ کے پھٹنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اس قصبے میں موجود سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عرسال اور اس کے آس پاس سات راکٹ گرے ہیں اور ان سے شامی مہاجرین کے ایک کیمپ اور ایک فیلڈ کلینک کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

لبنان کے سرحدی قصبے اور اس کے آس پاس جمعہ کو جس وقت یہ راکٹ گرے ہیں،عین اس وقت شام کے سرحدی علاقے میں ایک جنگی طیارہ ایک قصبے پر بمباری کررہا تھا لیکن لبنانی علاقے کی جانب آنے والے راکٹ اس جیٹ سے فائر نہیں ہوئے تھے۔

لبنان کی وادی بقاع میں واقع شہرالہرمل اور اس کے آس پاس بھی تین راکٹ گرے ہیں۔ان میں سے ایک راکٹ ہرمل کے اندر اور دو اس کے نزدیک واقع گاؤں میں گرے ہیں لیکن ان سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ لبنان کے ان دونوں قصبوں کی آبادی ایک دوسرے سے مختلف نقطہ نظر کی حامل ہے۔عرسال کی آبادی سنی اکثریتی ہے اور وہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی حمایت کررہے ہیں جبکہ الہرمل کی آبادی لبنان کی طاقتور شیعہ تنظیم حزب اللہ اور شامی صدر بشارالاسد کی حامی ہے۔

الہرمل ماضی میں بھی شامی باغیوں کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹ اور مارٹر حملوں کا نشانہ بن چکا ہے اور جمعرات کو اس سرحدی شہر میں ایک کاربم دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شام میں صدر بشارالاسد کی فوجوں سے برسرپیکار القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کی لبنانی شاخ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔تاہم آذاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔