.

دمشق: محاصرہ زدہ فلسطینی مہاجر کیمپ میں اشیاء خور و نوش کا داخلہ

گذشتہ برس ستمبر کے بعد سے پہلی مرتبہ یرموک کیمپ میں بیرونی امداد پہنچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی حکام اور شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دارلحکومت دمشق میں محاصرہ زدہ فلسطینی مہاجر کیمپ میں چار مہینوں کے دوران پہلی مرتبہ اشیاء خور و نوش پر مبنی امداد پہنچائی گئی ہے۔

جنوبی دمشق میں واقع مہاجر کیمپ میں خوراک کی فراہمی درجنوں افراد کی ناکافی طبی سہولیات اور بھوک کے باعث ہلاکت کی اطلاعات کے بعد ہفتے کے روز پہنچی ہے۔

تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] کے ایک عہدیدار انور عبدالھادی نے بتایا کہ کھانے پینے کی اشیاء پر مشتمل پہلی کھیپ ہفتے کے روز یرموک کیمپ پہنچی، جسے اہالیاں کیمپ میں تقسیم کیا گیا۔ ادھر شام کے سرکاری میڈیا نے بھی فلسطینی حکام کے حوالے سے کیمپ میں خوراک کا سامان پہچنے کی تصدیق کی ہے۔

شامی دارلحکومت کے جنوب میں واقع یرموک مہاجر کیمپ کئی ماہ تک حکومت مخالف فورسسز کے کنڑول میں رہا ہے جس کی وجہ سے شامی فوج نے کیمپ کا محاصرہ کر لیا، جس میں گذشتہ برس ستمبر سے شدت آئی۔

فلسطینی مہاجرین کے لئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی 'اونروا' کے ترجمان کریس گننس نے بتایا کہ ایجنسی نے کھانے پینے کی چیزوں پر مشتمل دو سو پارسل دمشق بھجوائے ہیں تاکہ انہیں مقامی لوگوں کے ذریعے متاثرہ افراد میں تقسیم کیا جا سکے۔ کریس اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ آیا یہ پارسل علاقے میں تقسیم کئے جا سکے ہیں یا نہیں کیونکہ اس کارروائی کو کیمپ میں امداد فراہمی کے لئے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر کیا گیا تھا۔

انہوں نے مذید بتایا کہ "شامی حکام نے ایجنسی سے مدد طلب کی تھی۔" ہم نےمثبت انداز جواب دیا اور درخواست کے مطابق خوراک کے پارسل عطیہ کئے۔ یاد رہے کہ خوراک فلسطینیوں تک براہ راست نہیں پہنچے گی بلکہ اسکے لیے ایک ثالث کی خدمات لی گئی ہے۔ ادارے کو یقین دلایا گیا تھا کہ خوراک کے پارسل تقسیم کر دیے جائیں گے اور انسانی فلاحی مقاصد کیلئے استعمال کیے جائیں گے۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ایک محتاط اندازے کے مطابق گذشتہ برس ستمبر سے اب تک یرموک کیمپ میں بھوک اور ادویہ کی کمیابی کی وجہ سے 54 اموات واقع ہو چکی ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پیر کے روز ایجنسی نے چھ ٹرکوں پر مشتمل ایک امدادی قافلہ کیمپ میں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جس میں خوراک، ادویہ اور پولیو کی ویکسینیشنز موجود تھیں مگر قافلے کو نامعلوم افراد کی فائرنگ اور قافلے کے قریب مارٹر شیل گرنے سے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے روک دیا گیا۔