.

یہودی "یونیسکو" سے ناراض، یہودی مفاد میں نمائش کیوں ملتوی کی

بائیس عرب ملکوں نے نمائش کو امن مذاکرات کیلیے خطرناک قرار دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی شہر لاس انجلس میں قائم سائمن ویزینتھال سنٹر نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی طرف سے یکطرفہ طور پر فلسطین اور یہودیوں کے تعلق کے موضوع پر طے شدہ نمائش ملتوی کرنے کی مذمت کی ہے۔ سائمن سنٹر کا موقف ہے کہ اس فیصلے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری امن مذاکرات پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہونا تھے۔

یہودیوں اور فلسطین کی ارض مقدس کے تعلق کو نمائش میں اجاگر کرنے کا فیصلہ دو سال پہلے ہوا تھا اور اس نمائش کو یقینی بنانے کیلیے سائمن ویزینتھال سنٹر نے وسائل فراہم کیے تھے۔

یوینسکو نے نمائش ملتوی کرنے کا فیصلہ 22 عرب ملکوں کی طرف سے احتجاج سامنے آنے پر کیا ہے۔ اسرائیل اور اس کا سب سے اپم سرپرست امریکا پہلے ہی یونیسکو سے خفا ہیں کہ یونیسکو نے 2011 میں فلسطین کو ممبر شپ دے دی تھی۔ امریکا نے ناراضی کے طور پر یونیسکو کو فراہم کیے جانے والے فنڈز میں کمی کر دی تھی، جس کی وجہ یونیسکو کو مالی مشکلات کے باعث سٹاف میں کمی کرنا پڑی تھی۔

اب طے شدہ پروگرام کے مطابق یہ نمائش منگل کے روز یونیسکو کے پیرس میں قائم ہیڈ کوارٹرز میں شروع ہونا تھی۔ لیکن اسے اچانک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس نمائش کے دوران یہودیوں اور فلسطین کا تعلق 3500 سال پر محیط ظاہر کیا جانا تھا۔

اسی وجہ سے 22 عرب ملکوں نے ایک خط کے ذریعے یونیسکو کی توجہ اس جانب مبذذول کرائی اور اس نمائش کے امن مذاکرات پر منفی اثرات کا حوالہ دیا تھا۔ جس کے بعد اسے ملتوی کر دیا گیا۔

لاس اینجلس میں قائم سنٹر سے وابستہ یہودی ربی مارون ہائیر نے اس بارے میں سخت غم غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے '' یہ ایک غضب ناک کر دینے والا فیصلہ ہے۔'' انہوں نے مزید کہا ''یونیسکو میں میں ایک ایک سطر پر خود نظر ثانی کی تھی اس لیے یہ کسی بھی طور پر امن مذاکرات کو متاثر کرنے والی نمائش نہ تھی۔''

یہودی مذہبی پیشوا کا یہ بھی کہنا تھا '' یونیسکو نئے آئیڈیاز کو آگے لے کر چلنے والے ادارے کے بجائے ایک سنسر زدہ ادارہ بن گیا ہے۔'' عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے یہودی ربی نے کہا '' اس نمائش کا تصور دوسال پہلے سامنے آیا تھا جب میں بھی پیرس میں تھا اور فلسطین کو یونیسکو کا رکن بنایا گیا تھا۔''

واضح رہے یہودی موقف کے مطابق یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ایرینا بوکووا نے لانس اینجلس میں وینتھال سنٹر کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے بعد مشترکہ طور پر ماہرین سے بھی مشاورت ہوتی رہی۔

حالیہ تقریبا تین برسوں کے دوران یونیسکو کی طرف سے اسرائیل اور یہودیوں کو ناراض کرنے کا دوسرا موقع ہے اس سے پہلے فلسطین کو یونیسکو کی ممبر شپ دینے پر بھی ناراض کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ دنیا بھر میں ہولو کاسٹ ایشو پر بات کرنے کی اجازت نہ دینے کے خابطوں کے حامی یہودی ربی نے یونیسکو پر سنسر کا الزام عاید کیا ہے۔ یونیسکو اس طرح کے الزام کا یہ پہلا موقع ہے۔