.

98 فیصد مصریوں کا نئے دستور کے حق میں ووٹ

"ووٹنگ میں 20.5 ملین ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے زیر اہتمام تیار کئے جانے والے نئے دستور کے بارے میں ہونے والے ریفرنڈم میں انیس ملین اہل رائے دہندگان نے ووٹ کا حق استعمال کیا ہے۔ ریفرنڈم میں 98 فیصد افراد نے نئے دستور کے بارے میں 'ہاں' کے حق میں ووٹ دیئے۔ یہ ریفرنڈم منگل اور بدھ کو منعقد ہوا۔

اس امر کا اعلان ریفرنڈم کی نگرانی کرنے والے سپریم ادارے کے سربراہ نبیل صلیب ایڈووکیٹ نے ہفتہ کے روز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ دستوری منصوبے کو غیر معمولی عوامی حمایت ملی ہے جس میں 20 ملین افراد نے ووٹ ڈالے۔

ادھر ایسی اطلاعات گردش میں ہیں کہ مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نئے مصری صدر کیلیے انتخاب ماہ مارچ میں کرانے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ سٹیٹ کونسل کے سربراہ کے نائب عیصام الدین عبدالعزیز کے مطابق عبوری صدر مصری شہریوں کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کیلیے کہیں گے۔ واضح رہے عیصام عبدالعزیز صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کیلیے قائم کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ اس کمیٹی کے کام کا آغاز اتوار کے روز سے شروع ہو گا۔

واضح رہے ماہ دسمبر میں نئے مجوزہ دستور میں پہلی ترمیم کرتے ہوئے صدارتی انتخاب پارلیمنٹ کے انتخاب سے پہلے کرانے کی ترمیم کی گئی تھی۔ ماہ جلائی میں پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد فوج کی طرف سے اعلان کردہ سیاسی روڈ میپ میں یہ ایک اہم تبدیلی تھی۔

مصر کو سیاسی طور پر آگے بڑھانے کیلیے نئے دستور کی منظوری کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اسی مقصد کیلیے 15 اور 16 جنوری کو غیر معمولی سکیورٹی کے ساتھ ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ریفرنڈم کا اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے بائِیکاٹ کیا تھا۔

مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کو آئندہ صدارتی انتخاب میں بطور امیدوار دیکھنے کے خواہشمندوں کے خیال میں صدارتی انتخاب پہلے کرانا زیادہ مفید ہو سکتا ہے تاکہ ایک ایک منتخب صدر کے طور پر پارلیمانی انتخا ب کیلیے اتحادوں اور دیگر معاملات پر گرفت مضبوط رہ سکے۔

ان سرکاری ذرائع کا خیال ہے جنرل السیسی آئندہ چند روز میں خود کو صدارت کے امیدوار کے طور پر سامنے لا سکتے ہیں۔ واضح رہے مرسی کے حامی جنرل السیسی کو سینکڑوں کارکنوں کی بے رحمانہ ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔