.

اقتدار چھوڑنا مذاکرات کا حصہ ہی نہیں: بشار الاسد

"حکومت چھوڑنا ہوتی تو بہت پہلے ہی چھوڑ دیتا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑنےکا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ادھر جنیوا ٹو کانفرنس شرکت کا اعلان کرنے والے اپوزیشن اتحاد کے مطابق بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ اس کانفرنس میں اتحاد کا مرکزی نکتہ ہو گا۔

اتوار کے روز روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق بشارالاسد نے یہ بات شام کا دورہ کرنے والے روسی ارکان پارلیمان سے کہی۔ بشارالاسد کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے اقتدار چھوڑنا ہوتا، تو وہ پہلے ہی یہ کام کر چکے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔

اس سے قبل شام کی منقسم اپوزیشن نے جنیوا ٹو نامی اس عالمی کانفرنس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی، جس میں شام میں قیام امن کے حوالے سے کسی روڈ میپ تک پہنچنے کی کوشش کی جانا ہے۔ اس اپوزیشن اتحاد کا موقف ہے کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانا چاہتی ہے۔

شدید بین الاقوامی دباؤ کے بعد شامی اپوزیشن کے منقسم قومی اتحاد کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے جنیوا ٹو امن کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ شام میں مارچ 2011ء سے جاری حکومت مخالف تحریک میں اب تک ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور اس کانفرنس میں بین الاقوامی برادری کی کوشش یہ ہو گی کہ کسی طرح سے اس خانہ جنگی کا خاتمہ ہو سکے۔

دمشق حکومت پہلے ہی اس کانفرنس میں شرکت کا اعلان کر چکی ہے۔ جنیوا ٹو کانفرنس بدھ کے روز منعقد ہونے جا رہی ہے، جس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد نے استنبول میں رائے شماری کرائی۔ اس رائے شماری میں 58 شامی مندوبین نے کانفرنس میں شرکت کے حق میں ووٹ دیا، 14 ووٹ اس کی مخالف میں آئے جب کہ دو رہنماؤں نے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور ایک ووٹ خالی پڑا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شامی اپوزیشن اتحاد میں شامل 120 مندوبین میں سے صرف 75 اس رائے شماری کے موقع پر موجود تھے، جس سے اس اتحاد میں موجود گہری دراڑوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

قومی اتحاد کے رہنما احمد الجربا نے اس رائے شماری کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی اس کانفرنس میں شرکت کا صرف ایک مقصد ہو گا اور وہ یہ کہ شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے کیسے ہٹایا جائے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا، ’جنیوا ٹو مذاکراتی ٹیبل صرف ایک طرفہ راستہ ہے، جس میں انقلاب کے مطالبے کو دوہرایا جائے گا، اس میں پہلا اور سب سے اہم نکتہ یہ ہو گا کہ کس طرح اس قصائی (بشارالاسد) کو اقتدار سے ہٹایا جائے۔‘

اپوزیشن اتحاد کے اس کانفرنس میں شرکت کے فیصلے پر مغربی حکومتوں کی جانب سے خیرمقدمی پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔ برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے اس شامی اپوزیشن کے اس اعلان کے بعد کہا کہ شامی اتحاد ایک ’مشکل فیصلہ‘ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ جرمن وزیرخارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے بھی اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شامی عوام کے لیے ’ایک موہوم امید‘ پیدا ہو گئی ہے۔ فرانسیسی وزیرخارجہ لاراں فابیوس کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک حوصلہ افزا راستے کا انتخاب کیا ہے۔

اس سے قبل اپنے ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپوزیشن کے جنیوا ٹو کانفرنس میں شرکت کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دلیرانہ فیصلہ اُس شامی عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے، جو اپنی حکومت کے مظالم اور نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کا سامنا کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 35 سے زائد ممالک کے اعلیٰ سفارت کار بدھ سے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے ان مذاکرات میں شریک ہیں، جن کا مقصد سن 2012ء میں منعقدہ جنیوا ون کانفرنس میں طے پانے والے روڈ میپ کے تحت شام میں کسی عبوری حکومت کا قیام ہے۔