.

شامی اپوزیشن گروپ جنیوا مذاکرات میں شرکت پر رضامند

انقلاب پر سودے بازی کیے بغیر شرکت کا فیصلہ کثرت رائے کیا گیا: الجربا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن گروپ شام کے انقلاب پر کسی قسم کی سودے بازی کے بغیر جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت پر رضامند ہو گیا۔ گروپ کے سربراہ احمد الجربا نے گروپ کی دوسرے جنیوا مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ "جنیوا 2 میں شرکت مطالبات منوانے کا راستہ ہے اور ہمارا بنیادی مطالبہ ظالم (صدر بشار الاسد) کو اقتدار سے ہٹانے کا ہے۔ ‘‘

قبل ازیں شامی اپوزیشن اتحاد کے ایک ترجمان خالد الصالح کا کہنا تھا، ‘‘ہم تمام اراکین اور اتحاد کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ شامی لوگوں کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھنا ایک مشکل کام ہے۔‘‘ خالد الصالح کا کہنا تھا کہ ان کا پہلے اور اب بھی یہی مطالبہ ہے کہ ایک ایسی عبوری حکومت قائم کی جائے، جس میں صدر اسد کا کوئی کردار نہ ہو۔

جمعہ کے روز شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اپوزیشن طاقتوں کے ساتھ حلب شہر ميں جنگ بندی کے معاہدے اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات کرنے پر راضی ہے۔

شامی اپوزیشن گروپوں میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں، جن کے بارے میں ایک اپوزیشن رکن سلیم المسلط کا جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’زیادہ تر شرکاء اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کا شام کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔‘‘ تاہم اسد حکومت نے شامی اپوزیشن کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینے والے حلقوں کی رائے تھی کہ اگر فریقین نے اپنے، موقف، مطالبات اور رویوں میں لچک نہ دکھائی تو جنیوا ٹو کانفرنس بھی ناکام ہو جائے گی اور اس کی قیمت صرف اور صرف شامی عوام کو ادا کرنا پڑے گی۔

شام میں اسد مخالف احتجاجی مظاہروں کا آغاز مارچ 2011ء میں ہوا تھا، جنہیں کچلنے کے لیے دمشق حکومت نے طاقت کا استعمال کیا تھا۔ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شامی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ تیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔