.

عراق میں شورش میں ''شیطانی''عرب ریاستوں کا ہاتھ ہے:مالکی

مراکش ،لیبیا اور یمن تک سے خودکش حملہ آور عراق میں آرہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے ''شیطانی'' اور بے اعتبار عرب ریاستوں پر اپنے ملک میں جاری بدامنی کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے اتوار کو جنوبی شہر ناصریہ میں ایک تقریر کے دوران کہا کہ مراکش ،لیبیا اور یمن تک سے عراق میں بم دھماکوں کے لیے خودکش حملہ آورآرہے ہیں لیکن انھوں نے کسی خاص ملک کا نام لینے سے گریز کیا ہے جو ان کے بہ قول سنی اکثریتی مغربی صوبے الانبار میں جاری شورش میں ملوث ہے۔

نوری المالکی نے کہا کہ بعض ممالک دہشت گردی اور برائی کی پشت پناہی کررہے ہیں لیکن دنیا ہمارے پیچھے ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ،یورپی یونین اور بیشتر عرب ممالک ہمارے ساتھ ہیں لیکن بعض شیطانی اور غلط عرب ریاستیں ہمارے ساتھ نہیں ہیں''۔

شیعہ وزیراعظم نے عراق میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہماری جنگ اول وآخر دہشت گردی کے خاتمے اور اس کو شکست دینے کے لیے ہے۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ سیاسی حل کے لیے بھی ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ہم کسی بھی ایسے حل ،ایسی تجویز اور سیاسی ملاقات کا خیرمقدم کریں گے لیکن اس میں دہشت گردی ،القاعدہ ،اس کے ٹھکانوں اور اس کے اتحادیوں کے خاتمے کا ادراک کیا جانا چاہیے''۔

انھوں نے عراق میں تشدد کی حمایت کرنے والے ممالک کو خبردار کیا کہ ''اس برائی نے پھیلنا شروع کردیا ہے اور تشدد ان ممالک تک بھی پہنچ جائے گا جیسا کہ یہ پہلے دوسرے ممالک پہلے پہنچ چکا ہے''۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2013ء میں عراق میں تشدد کے واقعات میں 8868 افراد مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ عراقی حکام ماضی میں سعودی عرب اور قطر پر خاص طور پر ملک کے سنی عرب علاقوں میں شورش پسندی کو ہوا دینے کا الزام عاید کرچکے ہیں۔نوری المالکی نےیہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب عراقی فوج نے مغربی صوبہ الانبار کے دارالحکومت رمادی،فلوجہ اور دوسرے علاقوں میں جہادیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی آغاز کی ہے۔

القاعدہ سے وابستہ تنظیم ریاست اسلامی عراق وشام نے گذشتہ ماہ کے آخر سے صوبے کے دارالحکومت رمادی اور فلوجہ میں مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔اب عراقی فورسز مقامی قبائل کی مدد سے ان شہروں کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کررہی ہیں۔فلوجہ میں لڑائی کے بعد سیکڑوں خاندان اپنا گھربار چھوڑ کر نزدیک واقع قصبوں یا دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔