.

داعش کا خونریز جھڑپوں کے بعد شامی باغیوں سے رجوع

دولت اسلامی عراق وشام کے سربراہ کا باہمی لڑائی کے خاتمے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے وابستہ گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے شام میں باغی جنگجو گروپوں کے ساتھ جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ان سے رجوع کر لیا ہے۔

داعش کے سربراہ ابو بکرالبغدادی نے اتوار کو انٹرنیٹ پر جاری کردہ ایک آڈیو بیان میں کہا ہے کہ ''آج دولت اسلامی لڑائی کے خاتمے کے لیے آپ سے رجوع کررہی ہے تاکہ نصیریہ کے ساتھ لڑائی پر توجہ مرکوز کی جا سکے''۔ واضح رہے کہ جہادی بالعموم شامی حکومت کے لیے نصیریہ کی اصطلاح استعمال کرتے رہتے ہیں۔

ابوبکر بغدادی نے شام کے باغی گروپوں پر راہ راست سے بھٹک جانے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ جو کوئی بھی ہم سے لڑرہا ہے،اس کو اپنے موقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔انھوں نے اپنے مخالف باغی جنگجوؤں کو مخاطب کرکے کہا کہ ''آپ نے ہمیں اس وقت پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے جب ہمارے فوجی اگلے محاذوں پر تھے''۔

القاعدہ گروپ کے سربراہ نے شام کے مختلف علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ''ہمارے پاس ایک ایسی فوج تھی جس نے حلب پر چڑھائی کے منصوبے پر عمل درآمد کیا تھا اور مغربی محاذ کی جانب پیش قدمی کی تھی،ہمارے پاس حماہ اور ادلب میں بھی جنگجو تھے لیکن ہمارے خلاف (دوسرے جنگجوؤں کے) محاذ آراء ہونے کے بعد یہ سب کچھ ایک ہی رات میں رک کر رہ گیا تھا''۔

وہ شام کے ان تمام علاقوں میں گذشتہ قریباً ایک ماہ سے داعش اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا حوالہ دے رہے تھے۔شمالی شہروں میں باغی جنگجو آپس میں برسرپیکار ہیں اور ان کے درمیان گذشتہ پندرہ روز سے جاری لڑائی میں سات سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔شام کے تین صوبوں حلب ،ادلب اور الرقہ میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے جہادیوں اور باغی جنگجو گروپوں کے درمیان دوبدو لڑائی ہورہی ہے ۔