.

ایران میں یورینیم افزودگی کے عمل کو 20 فیصد تک معطلی کا عمل شروع

یو این واچ ڈاگ کے ساتھ مذاکرات کے بعد افزودگی رکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے عندیہ دیا ہے کہ جنیوا میں 24 نومبر 2013 کو ہونے والے ابتدائی جوہری معاہدے پر عمل در آمد کے آغاز کے طور پر یورینیم کی 20 فیصد تک افزودگی کی معطلی آج 20 جنوری کو دوپہر کے وقت سے شروع کر رہا ہے۔ ایران نے یہ بات اقوام متحدہ کے جوہری واچ ڈاگ کے ساتھ بات چیت کے اختتام کو پہنچنے کے مرحلے پر کہی ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی جوہری توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمال وندی کا کہنا ہے کہ '' جوہری توانائی سے متعلق بین الاقوامی ادارے اور ہمارے جوہری ماہرین کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اس بات چیت کے مکمل ہوتے ہی دوپہر سے یورینیم کی افزودگی کا سلسلہ معطل کر دیا جائے گی۔''

واضح رہے کہ آج سے ابتدائی جوہری معاہدے پر عمل شروع ہونے کے چھ ماہ بعد ابتدائی معاہدے کے مزید آگے بڑھنے کا امکان ہے۔ ابتدائی طور پر ایران پر پہلے سے عاید پابندیوں میں قدرے نرمی آئے گی جبکہ امریکی انتظامیہ ایران کو مزید پابندیوں کی زد میں لانے کے خلاف متحرک ہے۔

امریکا اور مغربی ممالک کی کوشش ہے کہ ایران کو مذاکرات کے ذریعے جوہری بم بنانے سے باز رکھا جائے۔ اس سلسلے میں ایران کے نئے صدر حسن روحانی کے برسراقتدار آنے کے بعد کافی بہتری کا امکان پیدا ہوا ہے۔

مغربی سفارتکار اور جوہری ماہرین ایران کے ساتھ ہونے والی اب تک کی پیش رفت کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔