.

حمدین الصباحی کی جنرل السیسی سے صدارتی انتخابات پر گفتگو

جنرل سیسی کے صدارتی امیدوار بننے پر تائید و حمایت عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی بائیں بازو کی سیاسی جماعت پاپولر فرنٹ کے سربراہ اور شکست خوردہ سابق صدارتی امیداور حمدین الصباحی کا کہنا ہے کہ ہے انہوں نے مسلح افواج کے سربراہ و وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی کے ساتھ مصر کے پیش آئند صدارتی انتخابات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنرل السیسی خود صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کریں گے تو میں انتخابات میں شرکت کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتا ہوں۔

حمدین الصباحی نے ان خیالات کا اظہار مصری ٹیلی ویژن "الحیاۃ" کے ایک ٹاک شو میں گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انقلاب کے اہداف پورے کرنے کی یقین دہانی مل جائے، انقلابی نوجوان مطمئن ہوں، تحریک انقلاب کی روح کے مطابق فیصلے کرنے کی ضمانت دی جائے اور سابق دور کے سیاست دانوں کی راہ روکنے کا بندوبست کر دیا جائے تو ملکی معاملات میں فوج اور عوام کے مشترکہ کردار کو تسلیم کرتے ہوئے جنرل السیسی کو صدارتی انتخابات کے لیے بہ طور امیدوار قبول کر لوں گاَ۔

ایک سوال کے جواب میں حمدین الصباحی کا کہنا تھا کہ انہوں نے گفتگو کے دوران محسوس کیا کہ جنرل السیسی سمجھتے ہیں کہ عوام ان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں لیکن ان کی عوامی مقبولیت کے باوجود صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش نہیں ہے۔

پاپولر فرنٹ کے بانی رہنما کا کہنا تھا کہ عوام کا ایک بڑا طبقہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے اقدامات کا 'حامی' اور ان سے 'محبت' کرتا ہے، لیکن عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ جنرل السیسی کو اپنی ذمہ داریاں وزیر دفاع کے طور پر ہی محدود رکھنی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی فوجی سربراہ کا صدارتی انتخابات میں حصہ لینا انقلابیوں اور عوام میں وجہ نزاع بن سکتا ہے، کیونکہ اس معاملے پر خود انقلابیوں میں بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔

حمدین الصباحی استفسار کیا کہ اگر لوگوں کے کہنے پر جنرل السیسی نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا مگر وہ صدر بننے کے بعد انقلابیوں کے مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہے تو کیا عوام ان کے خلاف بھی بغاوت کی تحریک نہیں اٹھائیں گے؟

خیال رہے کہ حمدین الصباحی سابق معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے ساتھ صدارتی انتخابات میں امیدوار تھے لیکن وہ مرسی کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے، تاحال انہوں نے پیش آئند صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا کھل کراعلان تو نہیں کیا ہے، تاہم ان کی حالیہ گفتگو سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ اس بار بھی قسمت آزمائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حمدین الصباحی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کی پارٹی کے ترجمان عماد حمدی نے کہا کہ "حمدین صباحی کے الفاظ واضح ہیں جن میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ پیش آئند صدر تمام طبقات کا نمائندہ ہونا چاہیے۔ نیز یہ حمدین الصباحی انقلابیوں کی صفوں میں انتشار پھیلانے یا ان کےخلاف کوئی نیا محاذ کھڑا نہیں کرنا چاہتے۔

ترجمان نے کہا کہ حمدین الصباحی جس طرح 25 جنوری 2011ء کے انقلاب میں عوام کے ساتھ تھے۔ اسی طرح 30 جون 2013ء کے انقلاب میں بھی عوام اورانقلابیوں کے ساتھ ہیں۔ عوام جس شخص کس اپنا متفقہ صدارتی امیدوار چنیں گے حمدین الصباحی بھی اسی کی حمایت کریںگے۔