.

فلسطینی شہداء کی میتیں مغربی کنارے کے حوالے کرنے کا آغاز

عدالتی فیصلے کے تحت اسرائیلی فوج 36 شہداء کے اجساد خاکی واپس کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے گذشتہ برسوں میں مزاحمتی کارروائیوں کے دوران شہید ہوئے فلسطینی مزاحمت کاروں کے اجساد خاکی مغربی کنارے کے حوالے کرنے کا آغاز کردیا ہے اور وہ ایک عدالتی فیصلے کے تحت چھتیس شہداء کی میتیں دوبارہ تدفین کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے گی۔

فلسطینی شہداء کی میتوں کی واپسی کے لیے قائم قومی کمیٹی کی میڈیا رابطہ کار فاطمہ عبداللہ نے بتایا ہے کہ ''اسرائیل نے اتوار کی رات مغربی کنارے کے شہر جنین کے نزدیک واقع گاؤں صلاۃ الظہر سے تعلق رکھنے والے مجدی خانفر کی میت حوالے کردی ہے''۔

اسرائیلی پبلک ریڈیو کے مطابق مجدی خانفر دس سال قبل شہید ہوئے تھے۔فاطمہ عبداللہ نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج دو اور فلسطینیوں کی میتیں منگل کو حوالے کرے گی اور وہ اسرائیلی عدالت کے فیصلے کے تحت کل چھتیس شہید فلسطینیوں کی میتیں ان کے خاندانوں کے حوالے کرے گی۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''عدالت عظمیٰ کے فیصلے اور اسرائیلی حکومت کی ہدایت کے مطابق آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی فورسز) نے دہشت گردوں (فلسطینی شہداء) کی میتیں ان کے خاندانوں کے حوالے کرنے کا آغاز کردیا ہے''۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ڈی ایف اس کام کو مکمل پیشہ واریت اور درکار حساسیت کے مطابق انجام دے رہی ہیں۔فلسطینی شہداء کی میتوں کی واپسی اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی تیسرے مرحلے میں رہائی کے فوری بعد ہورہی ہے۔ان قیدیوں کو اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان جاری امن مذاکرات کے تحت رہا کیا گیا تھا۔

لیکن فاطمہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی میتوں کی واپسی کا امن مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ انھیں فلسطینی خاندانوں کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر اسرائیلی عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے تحت واپس کیا جارہا ہے۔