.

بغداد میں یکے بعد دیگرے بم دھماکے، 24 افراد ہلاک

کم سے کم 60 افراد زخمی، کسی گروپ نے بم حملوں کی ذمے داری قبولی نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں یکے بعد دیگرے چھے بم دھماکوں میں چوبیس افراد ہلاک اور کم سے کم ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد کے جنوبی علاقے ابو دشیر میں سوموار کو ایک مصروف مارکیٹ میں سب سے تباہ کن کار بم حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں سات افراد مارے گئے ہیں۔ سنی اکثریتی علاقے الدورہ میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں پانچ افراد اور شیعہ اکثریتی علاقے بغداد جدیدہ میں بم دھماکے میں چار افراد مارے گئے ہیں۔

شیعہ آبادی والے دو اور علاقوں حریۃ اور البائعا میں بھی دھماکے ہوئے ہیں۔عراقی حکام نے ان بم دھماکوں میں چوبیس ہلاکتوں اور اٹھاون افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے ان بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

عراقی دارالحکومت میں یہ بم حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب سکیورٹی فورسز مغربی صوبے الانبار میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

القاعدہ اور اس کے حامی سنی جنگجوؤں نے صوبے کے بڑے شہروں رمادی اور فلوجہ پر قبضہ کر رکھا ہے۔ان کی تشدد آمیز کارروائیوں کے بعد سے عراق میں ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس ماہ اب تک ساڑھے چھےسو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔