.

سعد حریری کا انتخابات سے قبل لبنان واپس آنے کا اعلان

2005ء میں بیروت کار بم دھماکے کا حکم بشارالاسد نے دیا تھا:ریڈیو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے اس سال پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے قبل وطن لوٹنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے اپنے مخالفین کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔

سعد حریری 2011ء میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے سعودی عرب اور فرانس میں رہ رہے ہیں۔انھوں نے یورپ 1 ریڈیو سے سوموار کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں انتخابات کے لیے لبنان واپس آؤں گا اور میں کسی روز وزیراعظم بھی بن سکتا ہوں''۔

قبل ازیں وہ لبنان واپسی سے متعلق کوئی تاریخ دینے سے گریزاں رہے ہیں لیکن اب انھوں نے واضح لفظوں میں اس سال نومبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے قبل ملک میں واپس آنے کا عندیہ دیا ہے۔

اںھوں نے گذشتہ ہفتے نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں اپنے والد اور سابق وزیراعظم رفیق حریری کے مقدمہ قتل کی اقوام متحدہ کے خصوصی ٹرائبیونل برائے لبنان میں حزب اللہ کے چار کارکنان کے خلاف ابتدائی سماعت میں شرکت کی ہے۔

اس موقع پر انھوں نے لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا اور اپنی سیاسی حریف جماعت حزب اللہ کی جانب مصالحت کا ہاتھ بڑھایا ہے اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ بات چیت اور شراکت اقتدار کو تیار ہیں۔اس ریڈیو انٹرویو میں بھی انھوں نے کہا کہ ''لبنان کے مفادات مجھ سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں''۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ اپنے مخالفین کے ساتھ شراکت اقتدار کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے اپنے والد رفیق حریری کے 2005ء میں بیروت میں کار بم دھماکے میں ہلاکت سے متعلق سوال پر کہا:'' یہ بات یقینی ہے کہ اس واقعے میں شامی صدر بشارالاسد کا ہاتھ کارفرما تھا''۔

انھوں نے کہا:''ہرکوئی جانتا ہے کہ (بم حملے کا) حکم کس نے دیا تھا۔یہ بشارالاسد تھے۔ایک دن آئے گا کہ ہم ذمے داروں کو پکڑ لیں گے اور انھیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا''۔انھوں نے اپنے ایک قریبی مشیر محمد شطح کی دسمبر میں بم حملے میں ہلاکت کا الزام بھی بشارالاسد پر عاید کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعد حریری کی قیادت میں مارچ14 اتحاد شامی صدر کی وفادار فورسز کے خلاف برسرجنگ سنی باغیوں کی حمایت کررہا ہے جبکہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں صدر اسد کی حمایت میں ان کی وفادار فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں شریک ہیں۔

سعد حریری نے بشارالاسد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''ان کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں کیونکہ ہم بشارالاسد جیسے شخص کو شام کے سربراہ ریاست کے طور پر قبول نہیں کرسکتے۔اب یہ روس اور ایران کا کام ہے کہ وہ بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنے کا کہیں کیونکہ شامی انھیں اب نہیں چاہتے ہیں''۔