.

بشارالاسد کا مستقبل ''سرخ لکیر''ہے: شامی وزیر خارجہ

حکومتی وفد کانفرنس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے جنیوا امن کانفرنس میں شرکت کے لیے آمد کے موقع پر کہا ہے کہ ''صدر بشار الاسد ہمارے اور شامی عوام کے لیے سرخ لکیر ہیں''۔

وہ آج بدھ کو سوئس شہر مونٹر یوکس میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے منگل کی رات پہنچے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ''صدارت ہمارے لیے سرخ لکیر ہے اور کوئی بھی شخص اس کو چھیڑ (ٹچ) نہیں سکتا ہے''۔

البتہ انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ ''حکومتی وفد کانفرنس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا کیونکہ یہ شامیوں کے درمیان شامی سر زمین پر بات چیت کے لیے پہلا قدم ہے''۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون حال ہی میں کہہ چکے ہیں یہ نئی امن کانفرنس جون 2012ء میں منعقدہ مذاکرات اور ان میں طے پائے اعلامیے کی بنیاد پر ہوگی۔ جنیوا اول کے نام سے معروف اس کانفرنس میں شام میں عبوری حکومت کے قیام پر زور دیا گیا تھا اور اس میں صدر بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔

لیکن اب شامی وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوگی اور وہ سرخ لکیر ہیں جبکہ کانفرنس کے تمام بین الاقوامی شرکاء کو اس بنا پر مدعو کیا گیا ہے کہ انھوں نے جنیوا اول کے اعلامیے سے اتفاق کیا تھا اور اسی کو بنیاد بنا کر اب شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

شامی صدر بشارالاسد کے حامی ملک ایران نے جنیوا اول کے اعلامیے کی حمایت نہیں کی جس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے اس کو سوموار کو جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت کے لیے بھیجا گیا دعوت نامہ منسوخ کردیا تھا۔

شامی حزب اختلاف نے جنیوا دوم میں ایران کی شرکت کی صورت میں بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی اور امریکا نے بھی یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایران جنیوا اعلامیے کی حمایت نہیں کرتا تو پھر اس کو بھیجا گیا دعوت نامہ منسوخ کردیا جائے۔

امریکا، روس سمیت قریباً چالیس ممالک کے نمائندے شام سے متعلق اس دوسری عالمی امن کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر کے وفود منگل کی رات جنیوا اور کانفرنس کی جائے انعقاد مونٹریوکس پہنچ چکے تھے۔ایک روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امن مذاکرات سات سے دس روز تک جاری رہیں گے اور شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان جمعہ کو پہلی مرتبہ براہ راست بات چیت ہوگی۔