.

بشار رجیم جنگی مجرم اور القاعدہ کی سرپرست ہے: احمد الجربا

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے اپوزیشن کو 'غدار' قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری تین سالہ خانہ جنگی سے نمٹنے کی خاطر عبوری دور کی تشکیل اور مسئلے کے سیاسی حل کے ذریعے قیام امن کیلے دوسری امن کانفرنس کے پہلے روز شامی رجیم کے وزیر خارجہ اور شامی اپوزیشن اتحاد نے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کر کے ان خدشات کو بڑھادیا ہے کہ جنیوا ٹو میں نتیجہ پر پہنچنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔

شام کے وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں اپوزیشن کو غدار جبکہ اپوزیشن سربراہ احمد الجربا نے شامی رجیم کو جنگی جرائم میں ملوث اور اہل شام کی قاتل رجیم قرار دیا۔ احمد الجربا نے بشار رجیم پر القاعدہ کی سرپرستی کا الزام عاید کیا اور کہا القاعدہ کو اس لیے مدد دی جا رہی ہے تا کہ وہ شام کی آزاد فوج پر حملے کر کے اس کیلیے مشکلات پیدا کر سکے۔

واضح رہے جنیوا ٹو میں میں تقریبا چالیس ایسے ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے جو شام کے بارے میں ہونے والی پہلی جنیوا امن کانفرنس کے اعلامیے سے اتفاق رکھتے ہیں۔ ایران کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے دی گئی شرکت کی دعوت شامی اپوزیشن ، سعودی عرب اور امریکا کے دباو کے باعث واپس لے لی گئی تھی کہ ایران پہلی جنیوا امن کانفرنس سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔

شامی وزیر خارجہ نے جنیوا پہنچنے کے بعد منگل کی شام اپنے پہلے بیان میں ہی اس بنیاد کو یہ کہہ کر ٹھیس پہنچائی ہے کہ صدر بشار کی صدارت شامی حکومت کیلیے سرخ لکیر ہے، اپوزشن اتحاد کی شرکت کا بنیادی نکتہ ہی بشارالاسد سے نجات کا لائحہ عمل طے کرانا ہے، تاہم جنیوا ٹو میں شام کی رجیم اور اپوزیشن اتحاد ایک میز پر آ گئے ہیں۔

اس جنیوا ٹو شروع ہونے سے پہلے ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس سے امیدیں وابستہ کرتے ہوئے کہا ہے '' یہ کانفرنس جذبہ امید کے طور پر سامنے آئے گی اس لیے موقع کو ضائع کرنا ناقابل معافی ہو گا۔''