.

سعودی عرب: خواتین کی بااختیاری، اعلانات پر عمل نہیں ہوتا

سب سے اہم مسئلہ شناخت تسلیم نہ کرنا اور سب سے بڑی رکاوٹ بیوروکریسی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قانون ساز خاتون حنان الاحمدی نے ملک میں خواتین کو با اختیار بنانے، خواتین سے متعلق قوانین اور اداروں کے بارے میں کیے گئے اعلانات و اصلاحات پر عمدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی خاتون قانون ساز کے مطابق وزارت انصاف نے ایسے بہت سے اعلانات کر رکھے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ''العربیہ '' سے بات چیت کے دوران کیا ہے۔

حنان الاحمدی کا کہنا ہے کہ خواتین سے متعلق مسائل کا حال ہے کہ وزارت انصاف نے پہلے ہی خواتین کو مختلف شعبوں میں با اختیار بنانے کیلیے اصلاحات کر رکھی ہیں لیکن یہ وزارت عمل کے معاملے بہت سست رفتار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا '' وزارت کے اعلانات کے مطابق خواتین سے متعلق معاملات کو دیکھنے کیلیے محکمہ جات اور شعبہ جات کی تشکیل کا فیصلہ ہو چکا ہے تاکہ طلاق، نان ونفقہ، اور بچوں کی حوالگی یا نگہداشت کے سلسلے میں بہتری لائی جا سکے لیکن عملا ایسا نہیں کیا جا رہا ہے۔''

''ان ایشوز پر میڈیا پر تو بہت کچھ کہا گیا اور اعلانات کر دیے گئے ہیں تاہم عمل کا معاملہ جوں کا توں ہے۔'' حنان الحمدی نے مزید کہا '' ان معاملات کو عملی شکل دینے کیلیے مضبوط قوت ارادی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔''

حنان الاحمدی نے اس راستے میں بیورو کریسی کو سب سے زیادہ ذمہ دار قرار دیا کہ بیورو کریسی کی ترجیحات مختلف ہیں، جبکہ ہم شوری کونسل کی ارکان توقع رکھتی ہیں کہ خواتین سے متعلق معاملات کو وزارت انصاف اپنی ترجیحات میں جگہ دے۔''

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا سب سے اہم مسئلہ خواتین کی شناخت کو تسلیم کرنے کا ہے جس کا انہیں عدالتوں میں سامنا کرنا پڑتا ہے، خواتین کا شناختی کارڈ عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں گواہ پیش کرنے کیلیے کہا جاتا ہے۔''

حنان الاحمدی نے وزارت انصاف کی طرف سے حال ہی میں لیے گئے بعض اہم اقدامات کی تعریف کی اور خواتین کو بطور وکیل پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کا حوالہ دیا، تاہم انہوں نے کہا ''شوری کونسل میں موجود خواتین کی طرف سے اپنے مسائل کے حوالے سے مزید اصلاحاتی اقدامات پر زور دیا جاتا رہے گا۔''