.

طیب ایردوآن کو یورپی رہنماوں کی تنقید کا سامنا

دورہ برسلز کے دوران کرپشن تحقیقات پر حکومتی رویہ زیر بحث رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کو پانچ سال کے دوران اپنے پہلے دورے کے موقع پر برسلز میں یورپی یونین کے رہنماوں کی سخت تنقید کا سامنا کر نا پڑا ہے۔ یورپی یونین کے رہنماوں کی یہ تنقید ترک حکومت کی جانب سے عدلیہ اور پولیس کیخلاف کریک ڈاون پر کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم ایردوآن نے پولیس میں تطہیر کا عمل شروع کر کے عدالتوں پر گرفت مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سب کچھ کرپشن کے ان الزامات کی کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد کیا جا رہا ہے، جن تحقیقت کی زد میں وزیر اعظم کے اپنے قریبی ساتھی آئے ہیں۔ اسی وجہ سے کابینہ کے تین ارکان کے علاوہ پارلیمنٹ کے بعض ارکان کو بھی مستعفی ہونا پڑا ہے۔

عدلیہ اور پولیس کیخلاف کریک ڈاون نے ترکی کے یورپی یونین کے ساتھ معاہدات اور تعلقات کوایک ایسے وقت میں کھٹائی میں ڈال دیا ہے جب 28 رکنی یورپی یونین میں شمولیت کا ترکی کا دیرینہ مطالبہ تحرک پکڑنے والا تھا۔ لیکن صورتحال یہ کہ جب ایردوآن نے یورپی یونین کے رہنماوں سے برسلز میں ملاقات کی ہے تو وہ ججوں اور پراسیکیوٹرز کی برطرفی کی ایک نئی مہم شروع کر چکے ہیں۔

اس ملاقات کے موقع پر یورپی یونین کے رہنماوں کے مطابق انہوں نے ترک وزیر اعظم کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔ یورپی کونسل کے صدر حرمان وین رومپائے نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا '' اہم بات یہ ہے کہ اپنی پہلے کی کامیابیوں کو ضائع نہ کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ عدلیہ بغیر کسی امتیاز کے اپنا کام کر سکے ۔''

یورپی یونین کمیشن کے صدر مینوئل براسو نے وزیر اعظم کیساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا '' قانون کی بالادستی کا احترام اور عدلیہ کی آزادی جمہورت کی اساس ہیں، نیز یورپی یونین کی رکنیت کی شرائط بھی یہی چیزیں ہیں۔'' یورپی کمیشن کے صدر نے مزید کہا '' مسائل کچھ بھی ہوں ہم سمجھتے ہیں کہ ان مسائل کا حل قانون کی بالادستی اور عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات کو الگ الگ رکھنے میں ہے۔''

ترک رہنما نے جو عام طور پر یورپی یونین کی جانب سے مسائل اٹھانے پرانہیں سخت برا بھلا کہتے ہیں اس موقع پر ٹھنڈے رہے۔ اس کی وجوہ ان کے ملک میں ابھرنے والی مالی مشکلات بھی ہیں کہ ترک کرنسی لیرا نے اپنی قدر کھونے کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں اور ان کی حکومت کرپشن تحقیقات کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔