.

اسرائیلی حملے میں جہاد اسلامی کے دو کارکن شہید

ایک فلسطینی پر آنجہانی ایریل شیرون کی تدفین کے موقع پر راکٹ حملے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی میں فضائی حملے میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہاد اسلامی کے دو کارکن شہید ہوگئے ہیں۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اکیس سالہ احمد الزانین اور تیئس سالہ محمد الزانین غزہ کے پٹی کے شمالی قصبے بیت حانون کے نزدیک ایک کارمیں سفر کررہے تھے۔اس دوران ان پر بمباری کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ''ان میں سے ایک اسرائیل پر حالیہ راکٹ حملوں میں ملوث تھا اور وہ پاپولر فرنٹ برائے آزادیٔ فلسطین کا رکن تھا۔اس نے سابق اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی تدفین کے موقع پر راکٹ حملہ بھی کیا تھا''۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ روز ہی حالیہ دنوں میں صہیونی ریاست کی جانب راکٹ حملوں میں اضافے پر غزہ کی حکمراں فلسطینی تنظیم حماس کو ''بہت جلد'' سبق سکھانے کی دھمکی دی تھی۔

نیتن یاہو نے اپنے کینیڈین ہم منصب اسٹیفن ہارپر کے ساتھ نیوزکانفرنس کے دوران منگل کو کہا تھا کہ ''ہماری بہت واضح پالیسی ہے۔ہم دہشت گردی کے حملوں کو ان کا پتا چلتے ہی روکیں گے اور جو کوئی بھی ہمیں نقصان پہنچائے گا،ہم اس کو طاقت سے جواب دیں گے''۔

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم کی اس دھمکی سے چندے قبل ہی حماس نے غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے فورسز کو تعینات کرنے کی اطلاع دی تھی۔حماس نے یہ اقدام غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب راکٹ حملوں کے بعد کیا تھا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان نومبر 2012ء کے بعد سے جنگ بندی جاری ہے لیکن اس دوران بھی غزہ سے صہیونی ریاست کے جنوبی علاقے کی جانب راکٹ فائرکیے جاتے رہے ہیں اور صہیونی فوج حماس اور دوسری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کو فضائی حملوں میں نشانہ بناتی رہی ہے۔