.

مراکش:عصمت دری کے بیخ کنی کے متنازعہ قانون میں ترمیم

فوجداری دفعہ میں شامل ''زیادتی کے مرتکب فرد سے متاثرہ لڑکی کی شادی''کے الفاظ حذف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش کی پارلیمان نے کم سن لڑکیوں سے زیادتی کے مرتکب افراد کی زبردستی کی شادی سے متعلق ضابطہ فوجداری کی ایک دفعہ میں ترمیم کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی ہے۔اس دفعہ کے تحت کسی کم سن بچی کے ساتھ زیادتی کے مرتکب شخص کو اس سے شادی کی صورت میں مقدمے بازی اور سزا میں چھوٹ مل جاتی تھی۔

مراکش میں نافذالعمل ضابطہ فوجداری کی دفعہ 475 کے خلاف ایک سولہ لڑکی کے ساتھ ایک نوجوان کی زیادتی اور پھر اس لڑکی کی خودکشی پرعوامی حلقوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔

امینہ الفلالئی نامی اس لڑکی کو ایک تئیس سالہ نوجوان نے اپنی جنس ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔اس کے بعد اس لڑکی کا اس نوجوان کے ساتھ نکاح کردیا گیا تھا لیکن ان کی شادی صرف سات ماہ برقرار رہی تھی اور اس لڑکی نے 2012ء میں خودکشی کر لی تھی۔

خودکشی کے اس واقعہ کے خلاف عوامی حلقوں،انسانی حقوق کی تنظیموں اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کے علمبردار گروپوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور حکومت سے اس قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔

مراکش میں لڑکیوں کی شادی کی حد عمر اٹھارہ سال مقرر ہے لیکن جج حضرات کم عمری کی شادیوں کی بھی بالعموم اجازت دے دیتے ہیں۔شمالی افریقہ میں واقع اس ملک میں 2004ء میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک خاندانی ضابطے کی منظوری دی گئی تھی۔

تاہم انسانی حقوق کے علمبردار کارکنان ملک میں نافذ آبروریزی سے متعلق تمام قوانین کو مکمل طور پر تبدیل کرنے یا ان میں ترامیم کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن پارلیمان نے اس کیس کے بعد صرف ایک دفعہ میں ترمیم کی ہے اور اس میں سے ''مجرم شخص کی اس کی جنسی ہوس کا نشانہ بننے والی لڑکی سے سزا سے بچنے کے لیے شادی'' کے الفاظ کو حذف کردیا گیا ہے۔

مراکشی خواتین کی یونین کی ایک رہ نما نزح علوئی نے قانون کی اتفاق رائے سے منظوری پر پارلیمان کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہےکہ اس نے بلوغت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی ان کے تمام مطالبات پورے نہیں ہوئے ہیں۔وہ خواتین کے خلاف ہر طرح کے تشدد کے خاتمے کے لیے بھی مہم چلا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک،افغانستان اور بھارت میں زبردستی کی شادیوں کی مثالیں موجود ہیں۔ان ممالک میں اگر کوئی عورت شادی کے بغیر باکرہ نہ رہے تو اس کو خاندانی عزت پر بدنما داغ سمجھا جاتا ہے۔بعض علاقوں میں تو ایسی عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے اور بعض علاقوں میں متاثرہ عورت کی جنسی ہوس کا مظاہرہ کرنے والے شخص سے ہی شادی کردی جاتی ہے لیکن بالعموم ایسی شادیاں کامیاب نہیں ہوتی ہیں اور وہ طلاق یا کسی ہلاکت آفریں واقعہ پر منتج ہوتی ہیں۔