.

ڈاکٹر الظواہری کا اسلامی جنگجوؤں سے باہمی لڑائی بند کرنے کا مطالبہ

شام میں باہم برسرپیکار گروپوں سے اسدی فورسز کے خلاف متحد ہونے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے شام میں جہادی جنگجوؤں اور مقامی اسلامی باغیوں کے درمیان جاری باہمی لڑائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاکٹر ایمن الظواہری نے ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر بدھ کو اپ لوڈ کی گئی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں تمام جہادی گروپوں اور شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے خواہاں ہر آزاد فرد پر زوردیا ہے کہ وہ جہادی اور اسلامی جنگجوؤں کے درمیان فوری طور پر لڑائی ختم کرائیں۔

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار باغی گروپوں پر مشتمل اسلامی محاذ اور القاعدہ سے وابستہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ قریباً ایک ماہ سے شمالی صوبوں حلب اور ادلب میں خونریز لڑائی جاری ہےاور اسلامی محاذ نے القاعدہ کے جہادیوں کو ان دونوں صوبوں کے بہت سے علاقوں سے نکال باہر کیا ہے۔

شامی گروپ القاعدہ کے اس گروپ پر صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف جاری مزاحمتی جنگ کو ہائی جیک کرنے اور اس کا آلہ کار ہونے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔ان کے درمیان آئی ایس آئی ایس (داعش) کے زیرانتظام چیک پوائنٹس اور اڈوں پر باغی جنگجوؤں کے حملوں کے بعد لڑائی شروع ہوئی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے پر انسانی حقوق پامال کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

داعش کے سربراہ ابو بکرالبغدادی نے اگلے روز شام میں باغی جنگجو گروپوں کے ساتھ جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ان سے رجوع کیا ہے۔انھوں نے گذشتہ اتوار کو انٹرنیٹ پر جاری کردہ ایک آڈیو بیان میں کہا کہ ''آج دولت اسلامی لڑائی کے خاتمے کے لیے آپ سے رجوع کررہی ہے تاکہ نصیریہ کے ساتھ لڑائی پر توجہ مرکوز کی جا سکے''۔ واضح رہے کہ جہادی بالعموم شامی حکومت کے لیے نصیریہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

ابوبکر بغدادی نے شام کے باغی گروپوں پر راہ راست سے بھٹک جانے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ جو کوئی بھی ہم سے لڑرہا ہے،اس کو اپنے موقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔انھوں نے اپنے مخالف باغی جنگجوؤں کو مخاطب کرکے کہا کہ ''آپ نے ہمیں اس وقت پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے جب ہمارے فوجی اگلے محاذوں پر تھے''۔

لیکن ان سے پہلے داعش کے ایک کمانڈر نے شامی جنگجوؤں کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے ان کے گروپ کے خلاف مسلح کارروائی جاری رکھی تو وہ خودکش بم حملے کریں گے۔داعش کے خلاف لڑائی کی قیادت کرنے والے باغی گروپ احرارالشام سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو کا کہنا ہے کہ ''القاعدہ والے صرف جنگجوؤں ہی کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو خوف زدہ کرنے کے لیے خودکش حملے کررہے ہیں''۔

داعش کے ترجمان ابومحمد العدنانی نے گذشتہ ہفتے ایک ویڈیو بیان میں اپنے جنگجوؤں سے کہا تھا کہ وہ دوسرے باغی گروپوں کو ''تہس نہس'' کردیں۔انھیں (باغیوں کو) مکمل طور پر ختم کردیں اور سازش کو اس کی پیدائش پر ہی قتل کردیں''۔

داعش نے یہ دھمکی القاعدہ سے وابستہ ایک اور گروپ النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی کے بیان کے بعد دی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کا محاذ بھی شام کے دوسرے باغی گروپوں کی داعش کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے جارہا ہے۔انھوں نے داعش کی غلطیوں کو اس لڑائی کا سبب قراردیا اور کہا کہ اس نے الرقہ میں النصرۃ کے کمانڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔

جولانی نے اپنے پیغام میں تمام باغی گروپوں سے کہا تھا کہ وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح جدوجہد میں متحد ہوجائیں،تمام باغی گروپوں کے درمیان باہمی لڑائی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور باغیوں کو صدر بشارالاسد کی فورسز کے خلاف لڑائی پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ شام میں القاعدہ کے دھڑوں میں تقسیم نومبر 2013ء میں عالمی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ایک فیصلے کے بعد رونما ہوئی تھی۔انھوں نے شام میں النصرۃ محاذ کو القاعدہ کا پرچم استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور ریاست اسلامی عراق وشام کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔

اس سے پہلے جون میں انھوں نے اس ضمن میں ایک تحریری فرمان جاری کیا تھا لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ڈاکٹر ظواہری نے کہا کہ صرف النصرۃ محاذ شام میں ان کے جہادی گروپ کی شاخ ہے اور جنرل کمان کو رپورٹ کرنے کا پابند ہے۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کو ختم کردیا جائے۔وہ جہادی بینر استعمال نہ کرے اور صرف ریاست اسلامی عراق کو برقرار رکھا جائے۔