.

اسد کا عبوری حکومت میں کردار نہیں ہو گا: احمد الجربا

بشار کے ساتھیوں کیلیے امریکا کا نرم گوشہ، روس کی موافقت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ احمد الجربا نے ایک مرتبہ پھر ملک میں جاری خونریزی کے خاتمے اور عبوری حکومت کی تشکیل کے حوالے سے مطالبہ کیا ہے کہ اس میں بشارالاسد کو شامل نہ کیا جائے۔ احمد الجربا نے یہ بات یہاں جنیوا میں رپورٹرز سے بات چیت کے دوران کہی ہے۔

جنیوا میں آج جمعہ کے روز شامی متحارب فریقین کئی دن تک جاری رہنے والے مذاکرات میں دوبارہ شام کا تنازعہ طے کرنے کیلیے شریک ہوں گے۔ اس سے پہلے شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم بشارالاسد کی صدارت کو حکومت کیلیے "سرخ لکیر" قرار دے چکے ہیں۔

اس بارے میں احمد الجربا کا کہنا ہے ''ہم اہل شام اپنا مستقبل بشارالاسد کے بغیر دیکھتے ہیں، بشارالاسد اور اس کےتمام ساتھی اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔'' احمد الجربا نے بشارالاسد کے سب سے بڑے اتحادی روس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ''روس نے بھی یقین دہانی کرا دی ہے کہ اب اسے باقی نہیں رکھا جائے گا۔''

تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری ''العربیہ'' کیساتھ اپنے انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ''ایسی کوئی عندیہ نہیں کہ بشارالاسد اقتدار چھوڑنے کو تیار ہے۔'' اگرچہ جان کیری سمجھتے ہیں کہ اب بشارالاسد کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی ہے۔ البتہ امریکا، بشار الاسد کے ساتھیوں کو باقی رکھنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ احمد الجربا نے کہا جنیوا ٹو میں ہمار ے موقف کی بنیاد ہی بشار رجیم کے بغیر شام کا مستقبل ہے۔'' انہوں نے کہا ''عبوری مدت کیلیے اسے ایک پیکج ڈیل کہا جا سکتا ہے۔"

شام کیلیے اقوام متحدہ کے نمائندے الاحضر الابراہیمی آج شامی فریقین سے ایک ہی کمرے میں الگ الگ ملاقاتیں کریں گےاور انہیں بتائیں گے امن منصوبہ کس طرح آگے بڑھے گا۔ واضح رہے تین سال پر پھیلی شامی خانہ جنگی کے دوران اب تک ایک لاکھ تیس ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں اور بائیس لاکھ دوسرے ملکوں میں ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔