.

شامی حکومت کی جنیوا مذاکرات سے واک آؤٹ کی دھمکی

الابراہیمی شامی وفد اور حزب اختلاف کے درمیان براہ راست ملاقات کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دمشق حکومت نے دھمکی دی ہے کہ اگر ہفتے تک سنجیدہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے تو اس کا وفد جنیوا سے اٹھ آئے گا۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے وزیرخارجہ ولید المعلم کا ایک بیان نشر کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''اگر ہفتے کو سنجیدہ مذاکراتی اجلاس منعقد نہیں ہوتے تو سرکاری وفد جنیوا سے واپس چلا جائے گا کیونکہ دوسرا فریق سنجیدہ نہیں ہے یا اس نے بات چیت کے لیے کوئی تیاری نہیں کی ہے''۔

شامی حکومت اور حزب اختلاف دونوں کے وفود جمعہ کو مذاکرات کے دوران الگ الگ کمروں میں بیٹھے تھے حالانکہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے مشترکہ ایلچی الاخضرالابراہیمی نے انھیں ایک کمرے میں آمنے سامنے بات چیت کے لیے بٹھانے کی کوشش کی ہے۔

ابراہیمی نے آج جنیوا میں وزیرخارجہ ولید المعلم کی قیادت میں شامی حکومت کے وفد سے ایک گھنٹے تک ملاقات کی ہے اور وہ شامی قومی اتحاد کے وفد سے بھی ملاقات کرنے والے تھے۔توقع ہے کہ وہ دونوں فریقوں کو براہ راست ملاقات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

درایں اثناء صدر بشارالاسد کی مشیر بوثینہ شعبان نے حزب اختلاف پر حکومتی وفد سے براہ راست مذاکرات نہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا وفد تو حزب اختلاف کے وفد کے ساتھ بات چیت کو تیار ہے۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے وفد میں شامل ایک رکن ہیثم المالح کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ولید المعلم سے ملاقات نہیں کریں گے جب تک شامی حکومت 30 جون 2012ء کو طے پائے جنیوا اعلامیے کی توثیق نہیں کردیتی۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے اقوام متحدہ کے ایلچی پر واضح کردیا ہے کہ ہم جنیوا اول پر دستخط ہونے تک شامی وفد سے ملاقات نہیں کریں گے۔جنیوا اول میں شام میں عبوری حکومت کے قیام پر زوردیا گیا تھا اور اس میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

تاہم ولیدالمعلم نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ وہ عبوری حکومت کے قیام کے لیے حزب اختلاف کے مطالبے کو تسلیم نہیں کریں گا۔بدھ سے جاری جنیوا مذاکرات کا حاصل اب تک یہ سامنے آیا ہے کہ شامی حکومت نے ساڑھے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنے سے اتفاق کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شامی حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ اعتماد بحال کرنے کے لیے خیرسگالی کے جذبے کے طور پر اپنے زیر حراست افراد کو رہا کردے۔