.

سنی حزب اللہ اور القاعدہ کی لڑائی سے الگ رہیںگے: سعدالحریری

النصرہ فرنٹ نے لبنان کے شیعہ علاقوں کو ہدف بنانے کا اعلان کر رکھا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سنی مسلمانوں نے القاعدہ اور حزب اللہ کے درمیان کسی بھی تصادم کا حصہ بننے سے انکار کر تے ہوئے ملک میں کسی بھی جگہ ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت کی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سابق وزیر اعظم سعد الحریری نے کہا ہے کہ '' اہل لبنان اور سنیوں نے ملک کے اندر اور پورے خطے میں کہیں بھی حزب اللہ اور القاعدہ کے درمیان کسی لڑائی کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔''

سابق وزیر اعظم کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب القاعدہ سے متاثرہ جہادی گروپ نے کہہ رکھا ہے کہ وہ تمام علاقے جہاں حزب اللہ کے اثرات ہیں اس کے نشانے پر ہوں گے، اس لیے سنی ان علاقوں سے دور رہیں۔''

واضح رہے سرحد پار کے دوسری طرف سے لبنان کی بیکا وادی کے علاقوں ہرمل، مشاریہ، اور القا میں بمباری کی گئی ہے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اس کے جواب میں النصرہ فرنٹ نے لبنان کے شیعہ علاقوں کو ہدف بنانے کا اعلان کیا ہے۔

النصرہ فرنٹ ایک طاقتور گروپ سمجھا جاتا ہے اور اس کے القاعدہ سے بھی قریبی روابط ہیں۔ اس وجہ سے شام میں جاری جنگ کے اثرات لبنان میں منتقل ہونے کے خدشات بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اس سے پہلے النسرہ فرنٹ ماہ جنوری میں لبنان کے شیعہ علاقوں میں چھوٹے بم دھماکے کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔