.

عالمی سطح پر طاقت سے سفارت کاری کیطرف پلٹ رہے ہیں: کیری

ڈیواس میں عالمی قائدین سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پالیسی کی تبدیلی کا اشارہ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عالمی سطح پر پیدا ہونے والا یہ تاثر کہ'' امریکا عالمی معاملات کے حوالے سے پسپائی کے راستے پر ہے'' کو رد کرتے ہوئے آئندہ برسوں کے دوران طاقت کے مقابلے میں سفارتی کوششوں کو امریکی پالیسیوں میں زیادہ جگہ ملنے کا اشارہ دیا ہے۔ جان کیری نے اس امر کا اظہار عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کے دوران کیا ہے۔

ڈیواس میں آدھے گھنٹے سے زائد پر پھیلی اپنی تقریر میں جان کیری نے پچھلے دس برسوں کے دوران طاقت استعمال کرنے کی ضرورت کو بدقسمتی قرار دیا اور کہا '' اب ہم سفارتی کوششوں کے دور میں داخل ہو رہے ہیں، یہ کوششیں زیادہ وسیع، گہری اور امریکی تاریخ کے حوالے سے زیادہ اہم رہی ہیں۔''

عالمی معاملات میں پیچھے ہٹنے اور اور کمزوری دکھانے کی باتیں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے الغوطہ میں استعمال کے واقعہ کے بارے میں امریکا کے طاقت استعمال کرنے کے فیصلے میں تبدیلی کے بعد شروع ہوئی تھیں۔ جب امریکی کانگریس نے اوباما انتظامیہ کو ایسا کرنے کے مضمرات کے باعث روک دیا تھا۔

جان کیری نے عالمی اقتصادی فورم میں اپنے خطاب میں کہا '' یہ رائے انتہائی سادگی پر مبنی ہے کہ امریکی اثر و رسوخ کا سارا انحصار امریکی فوجی طاقت پر ہے، یہ ہرگز درست نہیں ہے کہ کسی جگہ ہماری فوج نہیں ہے تو ہم وہاں موجود نہیں ہیں، فوجی طاقت کے استعمال کے بغیر بھی ہم میدان میں موجود ہوتے ہیں۔''

اس موقع پر انہوں نے عالمی سطح پر سفارتی حوالے سے ہونے والی اہم کوششوں کا بطور خاص ذکر کیا اور مشرق وسطی میں امن معاہدے کیلیے کوششوں، ایران کے جوہری تنازعے پر ہونے والے ابتدائی جوہری معاہدے اور شام کے سلسلے میں جاری جنیوا ٹو کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا اور جنوبی سوڈان میں امن کیلیے ہونے والی پیش رفت پر بات کی اور اپنی کامیابیوں اور کوششوں کے بارے میں عالمی برادری کو اعتماد میں لیا۔

امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے اپنی طاقت استعمال نہ کرنے اور اس سلسلے میں وضاحتیں کرنے کو مبصرین نے ملے جلے ردعمل کیساتھ لیا ہے۔

امریکی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے مطابق اگر امریکی پوزیشن پسپائی کی زد میں نہ ہوتی تو امریکی وزیر خارجہ اس نوعیت کی وضاحت کی ضرورت پیش نہ آتی۔