.

عراق میں بمباری کے واقعات، 19 ہلاک متعدد زخمی

اپریل میں متوقع انتخابات کے لیے مسائل بڑھنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ہفتے کے روز ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ عسکریت پسندوں نے بغداد کو شمالی عراق سے ملانے والے پل کو بھی دھماکے سے اڑا دیا ہے ۔ ان ہلاکتوں کے بعد ماہ جنوری میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔

تیس اپریل کو متوقع انتخابات کے حوالے سے اس بگڑتی ہوئی صورت حال نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ خطرہ ہے کہ تصادم اور بدامنی کی لہر کی لپیٹ میں پورا ملک آ جائے گا اور سیاسی ماحول متاثر ہو گا۔

جمعہ کی رات نازال کے قریب جنوبی فلوجہ میں ہونے والی بمباری ہفتے کی صبح تک جاری رہی ۔ مقامی ہسپتال کے ذمہ دار ڈاکٹر احمد شامی اس بمباری کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی شہریوں نے بمباری کے حوالے سے سرکاری افواج کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ جبکہ سرکاری حکام کا موقف ہے کہ شیلنگ کی ذمہ داری فوج پر عاید نہیں ہوتی ہے۔

صوبہ انبار کے دارالحکومت رمادی کے مغرب میں سکیورٹی حکام نے 20عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔ عسکریت پسندوں کی یہ ہلاکتیں البو فاراج کے علاقے میں ہوئی ہیں۔ فلوجہ اور رمادی کے کے زیادہ تر حصے ابھی تک عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ عسکریت پسندوں کو کسی علاقے میں اس طرح کنٹرول کرنے کا موقع ملا ہے اور وہ اپنی گرفت مسلسل مستحکم رکھے ہوئے ہیں۔

ہفتے کے روز مارٹر کے گولوں سے جیزان کے علاقے میں بمباری کی گئی، جیزان ایک شیعہ اکثریتی گاوں ہے۔ جو کہ باقوبہ کے شمال میں واقع ہے۔ مارٹر گولوں کی فائرنگ سے چھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں دو خواتین اور ایک نوجوان بھی شامل ہے۔

واضح رہے باقوبہ دیالہ صوبے کا دارالحکومت ہے۔ اس شہر بھی عراق کے ان شہروں میں شامل ہے جن میں بد امنی کے واقعات عام ہیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی ہلاکت یا دہشت گردی ہوتی رہتی ہے۔ عراق میں ماہ جنوری میں اب تک ہونے والی 800 سے زائد ہلاکتیں نوری 2013 کے مقابلے میں تین گنا ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے حالیہ دنوں میں عراقی سپیکر سے ملاقات کے دوران ملک میں سیاسی مفاہمت پر زور دیا ہے۔ لیکن وزیراعظم نورالمالکی نے 30 اپریل کو متوقع انتخابات کی وجہ سے سخت انداز اختیار کر رکھا ہے۔