.

مصر: عوامی مزاحمتی تحریک کی تیسری سالگرہ، 7 مظاہرین ہلاک

دو دھماکے، پولیس کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پولیس نے قاہرہ میں جمہوری دور کی واپسی اور معزول صدر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر انتہائی مہلک آنسو گیس کے شیل فائر کیے ہیں۔ اس دوران قاہرہ سمیت مجموعی طور پر سات افراد کے ہلاک اور 33 کے گرفتار ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

مصر میں عرب بہاریہ کے سلسلے میں آج 25 جنوری کو کامیاب مصری سیاسی و جمہوری تحریک کی تیسری سالگرہ گئی ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتوں نے اس موقع پر بھرپور سیاسی عزم کا اظہار کرنے کیلیے تقریبات اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا تھا۔

دوسری جانب مصری سکیورٹی فورسز نے غیر معمولی حد سکیورٹی انتظامات کر رکھے تھے تاکہ احتجاج کو ہر صورت اور ہرممکن طریقے میں روکا جا سکے ۔

واضح رہے تین سال قبل عوامی مزاحمتی تحریک کے نتیجے میں تقریبا تیس سال تک مصر کے سیاہ سفید کے مالک رہنے والے مطلق العنان حکمران حسنی مبارک کے اقتدار کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔ جس کے بعد مصری تاریخ میں محمد مرسی پہلے منتخب صدر کے طور پر سامنے آئے۔ جو فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد جیل میں بند ہیں۔

محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمون نے اس موقع پر ملک بھر میں احتجاج کیا تاکہ تین سال پہلے والے عوامی عزم کو زندہ رکھا جا سکے۔ اس کے مقابلے میں عبوری حکومت اور سکیورٹی فورسز نے اس احتجاج کو روکنے کی پوری تیاری کر رکھی تھی۔

ہفتے کے روز اخوان المسلمون کے مظاہرین کو روکنے کیلیے سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے لائیو شیل استعمال کیے ۔ انتہائی مہلک آنسو گیس جان لیوا حد تک خطرناک ہو سکتا ہے۔ مصری پولیس کی طرف سے پھینکے گئے آنسو گیس کے شیل سے دیر تک فضا میں زہرناک دھواں پھیلا رہا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران کم ازکم سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ جبکہ 33 سے زائد احتجاجی مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کیطرف سے مظاہرین کو روکنے کی کوشش اس وقت کی گئی جب وہ جامعہ مسجد قاہرہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے تین سا پہلے جمہوری جدوجہد کا مرکز بننے والے تحریر چوک کی طرف بڑھنے والے مظاہرین پر ہوائِی فائرنگ کی اور انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے ہفتے کے روز قاہرہ میں دو بم دھماکے بھی ہوئے ہیں۔

تیسری سالگرہ کا آغاز بم دھمکوں سے ہوا ہے۔ اس سےایک روز پہلے بھی دارالحکومت میں تین بم دھماکے ہوئے تھے۔ قاہرہ کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں۔