.

مصر: پارلیمانی سے پہلے صدارتی انتخابات ہوں گے

مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت نے انتخابی شیڈول میں تبدیلی کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک میں پارلیمانی انتخابات سے قبل صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی 3 جولائی 2013ء کو برطرفی کے بعد عبوری حکومت نے اپنے وضع کردہ نقشہ راہ (روڈ میپ) کے تحت پہلے پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن اب اس شیڈول میں تبدیلی کرکے پہلے صدارتی انتخابات کا اعلان کیا گیا ہےاور یہ فیصلہ ممکنہ طور پر جنرل عبدالفتاح السیسی کو ملک کا صدر منتخب کرانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ بعد میں اپنی نگرانی میں پارلیمانی انتخابات کرا سکیں۔

تاہم جنرل السیسی نے بہ ذات خود ابھی تک آیندہ صدارتی انتخاب میں امیدوار بننے کا اعلان نہیں کیا۔البتہ انھیں سابق منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے والے عوام کی حمایت حاصل ہے اور ان کے بہت سے حمایتی انھیں ہی آیندہ حقیقی صدارتی امیدوار قرار دے رہے ہیں۔

مصر کے عبوری وزیراعظم حازم الببلاوی نے بھی اگلے روز جنرل عبدالفتاح السیسی کی صدارتی انتخاب لڑنے کےلیے حمایت کردی ہے۔ حازم الببلاوی نے جمعرات کو ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''السیسی کو مقبول عوامی حمایت حاصل ہے،وہ یقینی طور پر امیدوار ہیں لیکن حتمی منصف تو عوام ہیں''۔

مصر کا نیا آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کے سربراہ عمروموسیٰ نے بھی جنرل السیسی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ مصر کا آیندہ صدر سویلین ہونا چاہیے اور اگر جنرل السیسی صدارتی انتخاب لڑنا چاہتے ہیں تو انھیں فوجی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

ہلاکتیں اور گرفتاریاں

درایں اثناء مصر کی وزارت صحت نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی اور برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کی انقلاب کی تیسری سالگرہ کے موقع پر متحارب ریلیوں کے دوران تشدد کے واقعات میں انچاس افراد ہلاک اور کم سے کم ڈھائی سو زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پر 1079 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں اور دوسرے حکومت مخالفین کی ریلیوں کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اشک آور گیس استعمال کی تھی۔سکیورٹی ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ قاہرہ میں پولیس پر حملوں کے الزام میں اخوان المسلمون کے تینتیس ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔