.

اسرائیل: مشرقی یروشلم میں متعدد فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا

مقصد علاقے سے فلسطینیوں کا صفایا ہے، فلسطینی گورنر عدنان الحسینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی زیرنگرانی مشرقی یروشلم میں چار فلسطینیوں کے گھر گرا دیے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کا دعوی ہے کہ چاروں گھر غیر قانونی اور ناجائز تھے اس لیے گرائے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق گرائے گئے چار گھروں میں مجموعی طور پر 20 افراد رہائش پذیر تھے۔ ان گرائے گئے گھروں میں سے دو گھر عیساویا کے علاقے سے متصل بنے تھے اور دو گھر بیت حنینا کے علاقے میں تھے۔

مکان گرانے میں اسرائیلی پولیس کا کردار نمایاں رہا کیونکہ فلسطینیوں کے گھر گرانے کیلیے اسرائیلی حکومت نے پولیس کو ذمہ داری سونپی تھی۔ گھروں کے مالک فلسطینیوں کو پولیس نے ہی گھروں سے نکال باہر کیا ۔ پولیس نے اس سلسلے میں گھر مالکان کو وارنٹ نما احکامت دیے کہ ان کے گھر قانون کی نظر میں جائز نہیں ہیں اس لیے گرائے جا رہے ہیں۔

اس بارے میں پولیس کی ترجمان لوبا سامری نے کہا '' کہ گھروں کو بغیر کسی رکاوٹ کے گرا دیا گیا ہےاوراس دوران کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔'' سامری نے مزید کہا ان گھروں کے مالک فلسطینیوں کے پاس اسرائیلی حکام کا جاری کردہ اجازت نامہ نہیں تھا۔''

مقبوضہ یروشلم کے فلسطینی گورنر عدنان الحسینی نے فلسطین کے سرکاری ریڈیو وائس آف فلسطین کو بتایا اسرائیلی حکام نے یہ گھر صرف اس لیے گرا دیے ہیں کہ اسرائیل عرب آبادی سے بسائے گئے یہودیوں کو دور رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی آبادی ہے اس لیے ان گھروں کو صاف کر دیا گیا ہے۔''

گورنر نے اس موقع پر سپریم کورٹ سے ہائی وے کی تعمیر کے خلاف درخواست کے مسترد ہونے کا بھی ذکر کیا، اس ہائی وے کو فلسطینی قصبے بیت صفا سے گذار کر یہودی بستیوں کے ساتھ ملایا جانا تھا۔

اقوام متحدہ کی طرف سے انسانی حقوق کے امور دیکھنے والے ادارے او سی ایچ اے کے مطابق اسرائیل نے 2013 کے دوران مجموعی طور اسی نوعیت کی 99 عمارات کو گرایا، جس کے نتیجے مین سینکڑوں فلسطینی بے گھر ہو گئے۔ واضح رہے مشرقی یروشلم پر اسرائیل نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اس میں موجود فلسطینیوں کو بھی اس سے نکالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔